بھوپال:06؍اپریل:وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں سڑک تعمیر ی کاموں میںجدید تکنیک کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیاجائے۔ کاموں کی کوالٹی پر نظر رکھنے کیلئے ڈرون کا استعمال ہو۔ سپری سافٹ ویئر نہ صرف ڈی پی آر تیار کرنے کے نظریہ سے کارآمد ہے بلکہ سڑک کے ساتھ پل – پلیوں کی ضرورت کو دکھانے میں بھی اس کا استعمال ہو رہاہے۔ سڑک تعمیری کاموں کو مکمل کرنے میں سائنسی طریقے کا استعمال شروع کرنا قابل تعریف ہے ۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو پیر کو سمتو بھون میں پنچایت و دیہی ترقی محکمہ کی سْگم سمپرکتا پروجیکٹ سے متعلق میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ہدایت دی کہ گزشتہ ماہ شروع کیے گئے ریاستی سطح کے جل گنگا سنوردھن ابھیان کی محکمانہ سطح پر ہر ہفتے جائزہ لیا جائے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے “ایک بغیا ماں کے نام” کے تحت کی گئی سرگرمیوں کی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے جل گنگا سنوردھن ابھیان میں عوامی شرکت بڑھانے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے تحت ریاست میں ایک ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر کی جائے گی اور 100 سے زیادہ آبادی والے مجروں-ٹولوں کو سڑک سہولت سے جوڑا جائے گا۔میٹنگ میں چیف سیکریٹری مسٹر انوراگ جین، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (وزیر اعلیٰ دفتر) مسٹر نیرج منڈلوئی، ایڈیشنل چیف سکریٹری پنچایت و دیہی ترقی محکمہ شریمتی دیپالی رستوگی اور دیگر افسران موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پروجیکٹ کا جائزہ لیتے ہوئے دیہی علاقوں میں آمد و رفت کی سہولت بہتر بنانے کے لیے معیاری کام کرنے کی ہدایت دی۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ کے تحت سڑکوں کی تعمیر منریگا یعنی وی بی-جی-رام-جی اسکیم کے تحت کی جائے گی۔ اس کے لیے ریاست کی ہر جنپد پنچایت تین کروڑ روپے تک کی منظوری دے سکے گی۔ “سْگم سمپرکتا پروجیکٹ” کے ذریعہ گاؤں، گرام پنچایتوں کو دوہری رابطہ سہولت فراہم کی جائے گی۔
سْگم سمپرکتا پروجیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں پہلے سے بنی سڑکوں کی رِمس پورٹل کے ذریعہ جیو انوینٹری کی جا رہی ہے۔ اس سے نئی سڑکوں کے انتخاب میں دہراؤ کی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔ جیو انوینٹری میں قومی شاہراہ، ریاستی شاہراہ، پی ایم جی ایس وائی، مرکزی ضلع سڑک اور رابطہ ایپ سے منتخب سڑکیں شامل ہیں۔
مقررہ ہدف کے مطابق 33 ہزار 655 سڑکوں میں سے 17 ہزار 437 سڑکوں کی جیو انوینٹری کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 9 اضلاع میں 80 فیصد سے زیادہ سروے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ رتلام، جبل پور، آگر-مالوا، مندسور اور پنا ضلع اس کام میں آگے ہیں۔
سْگم سمپرکتا پروجیکٹ کے تحت 2 گاؤں، گرام پنچایتوں، مجروں-ٹولوں اور طلباء کے مفاد میں ساندیپنی اسکولوں تک بننے والی سڑکوں کے لیے مقام کا انتخاب سپری سافٹ ویئر کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔
سڑکوں کی ڈی پی آر تیار کرنے کے لیے بھی اسی سافٹ ویئر اور رِمس پورٹل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ نئی مجوزہ سڑکوں کے سروے میں بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ سروے کی گئی سڑکوں میں کام کی جگہ کے مطابق سڑک تعمیر کا تخمینہ سافٹ ویئر کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سڑک کی تعمیر میں کہاں پل، پلیا اور کلورٹ کی ضرورت ہے، یہ بھی سافٹ ویئر کے ذریعہ بتا یا جارہاہے۔ اس طرح پروجیکٹ میں سڑک تعمیر کے مقام کے انتخاب سے لے کر ڈی پی آر تیار کرنے تک کا کام سائنسی طریقے سے ہو رہا ہے۔
پروجیکٹ کے تحت ریاست میں 7 ہزار 135 نئی سڑکوں کی تجویز تیار کی جا چکی ہے۔ ریاست کے 29 اضلاع میں 1771 نئی سڑکوں کی تجاویز کو ضلع سطح پر منظوری دی جا چکی ہے۔ پروجیکٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے زمینی عملے کو تکنیکی باریکیوں کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ اس میں ریاستی سطح سے 2100 سے زیادہ تکنیکی عملہ اور مختلف درجے کے انجینئروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ سرپنچ، سکریٹری اور گرام روزگار سہائک کو بھی تعمیر کے تکنیکی پہلوؤں کی معلومات دی جا رہی ہیں۔ پروجیکٹ کے تحت بننے والی سڑکوں کے معیار کی معلومات ڈرون ٹیکنالوجی سے حاصل کرنے کے علاوہ سڑک تعمیر سے متعلق مختلف سرگرمیوں کی نگرانی جنپد، ضلع اور ریاستی سطح پر ڈیش بورڈ کے ذریعہ کرنے کی پہل کی گئی ہے۔









