حیدرآباد 14فروری:اسدالدین اویسی نے آسام کے چیف منسٹر ہمانتابسوسرما پر ایک متنازع اور بعد میں حذف کی گئی ویڈیو کے حوالے سے شدید تنقید کی ہے اور اسے ’’نسل کشی پر اکسانے والی نفرت انگیز تقریر‘‘ قرار دیا ہے۔ اویسی نے سوال اٹھایا کہ اگر چیف منسٹر کے پاس’’چھپانے کو کچھ نہیں تھا‘‘ تو ویڈیو کو کیوں حذف کیا گیا؟ حیدرآباد سے رکنِ پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی ویڈیو انہوں نے بنائی ہوتی تو ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملتا، مگر چیف منسٹر سے کوئی سوال نہیں کر رہا۔ اویسی نے ویڈیو میں کیے گئے اس بیان پر بھی اعتراض کیا جس میں کہا گیا کہ اگر کوئی آٹو ڈرائیور ’’میاں‘‘ ہو تو اسے دو روپے کم دیے جائیں۔ اویسی نے کہا کہ کیا اس قسم کی زبان کسی ریاست کے چیف منسٹر کو زیب دیتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ (آسام کے چیف منسٹر) ایماندار تھے تو ویڈیو کو حذف کیوں کیا گیا؟