نئی دہلی 6جون: کانگریس نے ہفتہ کو ایک بار پھر سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے آن اسکرین مارکنگ سسٹم سے منسلک بے ضابطگیوں کو لے کر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’وزیر تعلیم کی الماری میں چھپے ’کنکال‘ اب تیزی سے باہر گرتے جا رہے ہیں۔ آج ہمیں ہندوستان ٹائمز کی 2 رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ’کوئیمپٹ‘ نے ٹینڈر کی سائبر سیکورٹی سے متعلق شرائط کو پورا دکھانے کے لیے سی بی ایس ای کو 2 سائبر سیکورٹی سرٹیفکیٹ جمع کروائے تھے۔‘‘ کانگریس لیڈر اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’اب خبر آئی ہے کہ یہ دونوں سرٹیفکیٹ دوسرے صارفین سے متعلق تھے۔ ان میں سے ایک کی میعاد ختم ہو چکی تھی (کوئیمپٹ کی جانب سے جمع کرائے جانے کے وقت وہ تقریباً 2 سال پرانا تھا) جبکہ دوسرے کا آڈٹ پروڈکشن انوائرمنٹ میں موجود اصل ایپلیکیشن کے بجائے ایک عارضی ایپلیکیشن کے طور پر کیا گیا تھا۔‘‘ ساتھ ہی انہو نے لکھا کہ ’’سی بی ایس ای نے اس دھوکہ کو بے نقاب کرنے کے بجائے کوئیمپٹ کو بڑھی ہوئی شرحوں پر ٹھیکہ دے دیا‘‘ جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں فروری 2025 ہی میں جین-زی کے ایتھیکل ہیکرز نے سائبر سیکورٹی سے متعلق سنگین خامیاں بے نقاب کر دی تھیں – جنہیں سی بی ایس ای تب تک جھٹلاتا رہا، جب تک کہ اس کے لیے ایسا کرنا ممکن نہ رہا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’دراصل یہ مانتے ہوئے کہ کوئیمپٹ کا پورٹل پوری طرح غیر محفوظ ہو چکا تھا، سی بی ایس ای نے اب نظر ثانی کے عمل کے لیے کوئیمپٹ کے پلیٹ فارم کا استعمال بند کر دیا ہے اور اپنی الگ ویب سائٹ بنا لی ہے۔‘‘









