نئی دہلی 8دسمبر: لوک سبھا میں آج ’وندے ماترم‘ پر بحث کے دوران کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے برسراقتدار طبقہ کو زبردست انداز میں نشانے پر لیا۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام تو نہیں لیا، لیکن کئی مواقع پر آج ایوان میں وزیر اعظم کے ذریعہ دیے گئے بیان کی طرف اشارہ کر جوابی حملہ کیا۔ خاص طور سے ’وندے ماترم‘ کے حذف کردہ الفاظ سے متعلق وزیر اعظم مودی نے جو بیان آج دیا، اس پر کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’’ہمارے قومی گیت اور قومی ترانہ دونوں کا انتخاب اور تقرری میں سب سے بڑا کردار گرو دیو رویندرناتھ ٹیگور کا تھا۔ اسے آئین ساز اسمبلی نے بھی منظوری دی۔
اس پر سوال اٹھانا نہ صرف ہماری تحریک آزادی کے پروانوں اور عظیم ہستیوں کی بے عزتی ہے، بلکہ پوری آئین ساز اسمبلی کی بھی بے عزتی ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران برسراقتدار طبقہ کے سامنے ایک انتہائی تلخ سوال بھی رکھا، جسے بعد میں انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر بھی شیئر کیا ہے۔ انھوں ایوان زیریں میں موجود برسراقتدار طبقہ کے لیڈران سے پوچھا کہ ’’کیا آج حکومت میں بیٹھے لوگ اتنے متکبر ہو گئے ہیں کہ وہ خود کو مہاتما گاندھی، نیتاجی سبھاش چندر بوس، ڈاکٹر امبیڈکر، ڈاکٹر راجندر پرساد جیسی عظیم ہستیوں سے بھی بڑا سمجھنے لگے ہیں؟‘‘ اس دوران پرینکا گاندھی نے ’وندے ماترم‘ کی کرونولوجی بھی پیش کی۔