پٹنہ: چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی ایم ڈبلیو انصاری نے آج پٹنہ میں منعقدہ دانشوروں کی ایک اہم میٹنگ میں پچھڑی برادری کی مسلسل کی جا رہی ناانصافی اور نظراندازی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلم دونوں طبقات کے پچھڑے ورگ کو مل کر اپنے حقوق کے لیے تحریک کھڑی کرنی ہوگی، کیونکہ دونوں کے بزرگوں نے ہمیشہ سماج کے کمزور طبقات کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ہے۔ انصاری نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور آسِم بہاری کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے میدان میں رہ کر پچھڑوں اور دلتوں کی آواز اٹھائی۔ ان کی برسی دو دن کے وقفے سے، یعنی آسِم بہاری کی 4 دسمبر اور امبیڈکر کی 6 دسمبر کو ہوتی ہے، اور پیدائش کی تاریخیں بھی 14 اور 15 اپریل کو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں نے چھوا چھوت اور سماجی امتیاز کے خلاف یکساں جدوجہد کی۔وہ آج پٹنہ میں بطخ میاں انصاری پرہندی میں تحریر کردہ اپنی کتاب کے اجراء کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔
اس کتاب کو انہوں نے گذشتہ روز بہار کے گورنر عارف محمد خان کو بھی پیش کی گورنر موصوف نے بھی کتاب کا سرسری مطالعہ کیا اور کہا کہ وہ چند دنوں کے لئے بہار سے باہر دورہ پر جارہے ہیں واپسی کے بعد اس کتاب کا مطالعہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہندو اور مسلمان ہمیشہ ایک ساتھ مل کر کام کرتے رہے ہیں۔ اکبر اور بیربل کی مثال سے لے کر شیواجی کے لشکر میں شامل مسلم جرنیلوں تک، ہر دور میں مشترکہ وراثت کی روایت مضبوط رہی۔ انصاری نے افسوس ظاہر کیا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے جن اصولوں پر کام کیا، آسِم بہاری نے بھی وہی راستہ اپنایا، لیکن آج دونوں کی یکساں شناخت عوام تک نہیں پہنچتی۔ اس دوران انہوں نے بتخ میاں انصاری کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ گاندھی جی کی جان بچانے والے اس بے مثال شخص کو تاریخ میں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق تھے۔ گاندھی کے قاتل کو تو سب جانتے ہیں، مگر گاندھی کو بچانے والے کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈکٹر راجندر پرساد نے بتخ میاں کے خاندان کو 135 بیگھہ زمین دینے کا حکم جاری کیا تھا، مگر آج تک کسی حکومت نے اس پر عمل نہیں کیا۔ اس خاندان کے لوگ آج بھی جھونپڑی میں رہتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھڑے سماج سے آنے والے ایم پی اور ایم ایل اے بھی کبھی اس مسئلے کو ایوان میں نہیں اٹھاتے۔
اجلاس میں سماجی کارکن اور مفکر بنود کمار نے پچھڑی برادری کے مسائل، سماجی روش، سیاسی حکمتِ عملی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر نہایت تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پچھڑوں کی مشکلیں وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی گئی ہیں اور یہ اضافہ صرف سیاسی سطح پر نہیں بلکہ سماجی، ذہنی اور تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے بھی ہوا ہے۔ بنود کمار نے کہا کہ آگے یا غیر پچھڑے طبقے میں کوئی بڑا تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے، نہ وہ ریلّی نکالتے ہیں اور نہ اپنی برتری ظاہر کرنے کی سیاسی کوشش کرتے ہیں، لیکن پچھڑے طبقے میں تنظیمیں بھی ہیں، تحریکیں بھی چلتی ہیں اور بڑی بڑی ریلّیاں بھی نکالی جاتی ہیں۔
مگر افسوس یہ ہے کہ یہ ساری سرگرمیاں سماجی ترقی کے بجائے سیاسی مفادات کے تابع ہو جاتی ہیں اور سیاست کے دائرے سے باہر نکل کر کوئی اجتماعی فکری عمل نہیں چلایا جاتا۔انہوں نے کہا کہ “پچھڑا سماج صرف سیاسی نعروں کے سہارے زندہ نہیں رہ سکتا۔ سیاست ضروری ہے مگر سماجی شعور، فکری تربیت اور تنظیمی ڈسپلن کے بغیر سیاست کا فائدہ محدود اور عارضی ہوتا ہے۔” اس دوران بنود کمار نے آر ایس ایس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ تنظیم سال کے 365 دن، دن کے 24 گھنٹے مسلسل کام کرتی ہے۔ وہ صرف الیکشن کے دوران متحرک نہیں ہوتی بلکہ سماج میں جڑیں مضبوط کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس سے پچھڑی برادری نے کچھ نہیں سیکھا۔ پچھڑے لوگ الیکشن کے وقت تو متحرک ہوتے ہیں، جلسوں میں بھرپور بھیڑ بھی دکھا دیتے ہیں، مگر سماجی تعمیر اور فکری بیداری کے لیے مستقل مزاجی کے ساتھ کوئی عمل نہیں کرتے۔
بنود کمار نے یہ بھی کہا کہ پچھڑے طبقے کے پاس کوئی طویل مدتی پلاننگ نہیں ہے۔ ہر شخص اپنی ذاتی سیاسی کامیابی، عہدے اور کرسی کے خواب دیکھنے میں لگ جاتا ہے، جبکہ سماج کی ترقی کے لیے اجتماعی سوچ اور نظم و ضبط کے ساتھ مسلسل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر کوئی سوشلسٹ بھی سڑک بن جانے کو ترقی کا پیمانہ سمجھنے لگے گا تو پھر کیپیٹلسٹ کیا کرے گا؟ سوشلسٹ کا مقصد سماج کی ترقی ہونا چاہیے، صرف انفراسٹرکچر کی تعریف کرنا نہیں۔”
انہوں نے بہار کی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 35 سال تک ریاست میں ایسے طبقات کی حکومت رہی جنہیں پچھڑا کہا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود پچھڑا طبقہ آج بھی شکایت کر رہا ہے، احساسِ محرومی رکھتا ہے اور ترقی کے لحاظ سے مسلسل پیچھے ہے۔ بنود کمار نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسی کون سی کمی ہے کہ اتنے برسوں تک سیاسی اقتدار میں رہ کر بھی پچھڑے لوگ مضبوط اور خود کفیل نہ بن سکے؟ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت پر سنجیدگی سے ’’ری تھنک‘‘ کرنے کی ضرورت ہے۔
بنود کمار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بی جے پی اور اس کی تنظیمیں انسانی نفسیات Human Psychology کو مسلسل اسٹڈی کرتی ہیں، لوگوں کی ذہنی ساخت، سماجی سوچ اور رویوں کو سمجھ کر حکمتِ عملی بناتی ہیں، مگر پچھڑا سماج اس معاملے میں تقریباً خالی ہاتھ ہے۔ نہ اجتماعی اسٹڈی ہوتی ہے، نہ حکمتِ عملی بنتی ہے، نہ سماجی ایجنڈا تیار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھڑے طبقے کو سیاست اور سماجی سرگرمیوں میں واضح فرق کرنا ہوگا۔ “صرف سیاست سے نجات نہیں ملتی، سماجی بیداری اور فکری تعمیر کے بغیر صرف سیاسی طاقت کچھ نہیں کر سکتی۔”
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ پچھڑے طبقے میں عملی کارکن (Activist) کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر کوئی صرف عہدے اور کرسی کا خواب دیکھتا ہے، سماج کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کم ہو رہا ہے، اور جو لوگ حقیقی معنی میں کمیونٹی کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں انہیں سپورٹ نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ سماج کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب قیادت، تنظیم اور عوام ایک مشترکہ سماجی مقصد کے ساتھ مسلسل کام کریں، ورنہ صرف تقاریر، ریلّیاں اور سیاسی وعدے پچھڑے طبقے کی حالت میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے۔