بھوپال، 4 جون: مدھیہ پردیش اُردو اکیڈمی، مدھیہ پردیش سنسکرتی پریشد، محکمۂ ثقافت کے زیرِ اہتمام 4 جون کو رویندر بھون کے انجنی آڈیٹوریم میں ’’یادِ بشیر بدر‘‘ پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں شہر کے محبان ادب و فن کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ یہ تقریب معروف شاعر بشیر بدر کے نام سے منسوب تھی، جس میں مکالماتی نشست اور کل ہند مشاعرے کے ذریعے انہیں پُرخلوص خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
اس موقع پر اُردو اکیڈمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:’’پدم شری بشیر بدر صرف ایک بڑے شاعر ہی نہیں بلکہ محبت، انسانیت اور تہذیب کی ایسی آواز تھے جنہوں نے اپنی شاعری سے کروڑوں دلوں کو جوڑا۔ ان کی غزلوں نے عام انسان کے جذبات کو جس سادگی اور خوبصورتی سے اظہار دیا، وہ انہیں اپنے عہد کا مقبول ترین شاعر بناتا ہے۔ اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ ’’یادِ بشیر بدر‘‘ صرف ایک تعزیتی تقریب نہیں بلکہ نئی نسل کو بشیر بدر صاحب کی تخلیقی وراثت، انسانی حساسیت اور ادبی اقدار سے روشناس کرانے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
اس کے بعد ’’محبتوں کا سفیر شاعر : بشیر بدر‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مکالماتی نشست میں ممتاز فلم ساز، ہدایت کار اور موسیقار وشال بھاردواج،معروف گلوکارہ ریکھا بھاردواج اور ڈاکٹر نصرت مہدی نے بشیر بدر صاحب سے وابستہ یادوں، ان کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی۔
وِشال بھاردواج نے بشیر بدر صاحب سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بشیر بدر صاحب سے میری پہلی ملاقات اُن کے ایک لازوال شعر کے ذریعے ہوئی، جس نے میرے کالج کے اُن دنوں میں، جب ہندوستان میں غزل پھر سے زندہ ہو رہی تھی، میرے دل پر گہرا اثر کیا۔
یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم
یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں
اس شعر نے مجھے اتنا متاثر کہ میں نے اُن کے مزید اشعار ڈھونڈنے شروع کر دیے۔ میرہے بہن اُن کی بیٹی کی سہیلی تھی، اس لیے میں نے اُن کے پاس موجود غزل مجموعے کو جو دیوناگری میں تھا، ایک رات کے لیے اُدھار لیا اور پوری رات جاگ کر اُسے اپنی ڈائری میں اتار لیا۔ وہ ڈائری پھر میرے ساتھ ہمیشہ رہی۔
پھر اس کے بعد ایک دیوانگی سی گئی اور میں میرٹھ میں اُن کے پاس جانے لگا۔ اُن کے ساتھ گزارے وہ لمحات میرے زندگی کے سب سے قیمتی لمحات میں سے ایک رہے، یہ شاید پچھلے جنم کے کسی اچھے عمل کا نتیجہ ہے۔
ریکھا بھاردواج نے اپنی یادیں شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میرا بشیر بدر صاحب سے تعارف اُن کے بیٹے جیسے شاگرد وِشال کے ذریعے ہوا۔ ہم دونوں ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے، جہاں وِشال اکثر اُن کی شاعری سنایا کرتے تھے اور خاص طور پر یہ عمدہ شعر بار بار دہراتے —
’’یوں ہی بےسبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو‘‘۔
آہستہ آہستہ اُن کے اشعار نے مجھے بھی متاثر کیا اور میں بھی اُن کے اشعار سننے لگی اور پھر میں نے ان اشعار کو اپنی آواز بھی دی۔ جب بالآخر اُن سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے مسکراتے ہوئے پرخلوص محبت سے کہا — ’’یہ میری بیٹی ہے۔‘‘ اور پھر اُنہوں نے مجھے اپنی بیٹی بنا لیا۔
مکالماتی نشست کے دوران ممتاز گلوکارہ ریکھا بھاردواج نے بشیر بدر کی غزلیں بھی پیش کیں۔
اس نشست کی نظامت کے فرائض ثمینہ علی صدیقی نے انجام دیے۔
دوسرے اجلاس میں منعقدہ کل ہند مشاعرے کی صدارت پروفیسر وسیم بریلوی نے کی۔ مشاعرے میں پڑھے گئے چند منتخب اشعار:
یہ ناقدری ہماری اس لیے ہے
ترا ہونے میں جلدی کرگئے ہم
ندیم شاد (دیوبند)
جو دیکھنا ہو مجھے تو ذرا ٹھہر جانا
میں منظروں کے بہت بعد کا نظارہ ہوں
گوتم راج رشی (میرٹھ)
ہم اپنے دل کی دنیا میں ہیں لیکن
یہاں بھی جی نہیں لگتا ہمارا
پوجا بھاٹیہ (ممبئی)
صورتِ حال تو نہیں بدلی
حال بدلا، بدل گئی صورت
حنا عبّاس، علی گڑھ
ہماری یاد میں زندہ ہے وہ شاعر جو کہتا ہے
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
شاہنواز انصاری (اندور)
بشیر بدر ہیں شاعر، وہ کوئی عام نہیں
نگاہِ ناز سے ان کو نِہارتے جاؤ
جیوتی آزاد کھتری (گوالیر)
اسی کھلیان میں میں نے مرا بچپن گزارا ہے
دروغہ بن بھی جاؤں تو کسانی یاد آئے گی
چترانش کھرے (بھوپال)
رہو عمر بھر مرے ساتھ ساتھ، مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں
مگر آفتو، یہ بتا تو دو، مرے گھر کا کس نے پتہ دیا
فرحان منظر (کورَوائی)
ویسے ہی سارے شہر میں وہ خوش لباس تھی
اوپر سے اس نے رنگ بھی گہرا پہن لیا
نعمان غازی (بھوپال)
عجیب ڈھنگ سے مجھ کو ملی ہے آزادی
پرندہ پنجرے میں پنجرا ہوا میں رکھا گیا
سلمان سعید (دہلی)
ایک دن ہم بھول سے جنگل سے باہر آ گئے
اور پھر جدوجہد کو زندگی سمجھا گیا
یش شکلا (اندور)
شاعروں نے اپنے اشعار کے ذریعے بشیر بدر صاحب کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض دہلی کے نوجوان شاعر سلمان سعید نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
پروگرام کے اختتام پر ممتاز خان نے تمام مہمانوں، شعراء اور موجود ادب دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔









