پٹنہ 5نومبر:بہار اسمبلی انتخاب کی سرگرمیوں کے درمیان 2 سیٹوں پر جَن سوراج اور بی ایس پی امیدواروں کے ذریعہ بی جے پی کی حمایت کے اعلان نے ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ مونگیر اسمبلی سیٹ سے جَن سوراج امیدوار سنجے سنگھ نے اور تاراپور سیٹ سے بی ایس پی امیدوار آشیش آنند نے بی جے پی امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی اپنی امیدواری واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کو عام ہونے کے بعد جَن سوراج اور بی ایس پی دونوں کا ہی حقیقی چہرہ سامنے آ گیا ہے۔ ان دونوں پارٹیوں کے بارے میں پہلے سے ہی کہا جا رہا تھا کہ بی جے پی کی ’بی‘ ٹیمیں ہیں اور سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنا ان کا مقصد ہے۔ ایسی سیٹوں پر یہ امیدوار کھڑے نہیں کرتیں، جہاں بی جے پی امیدوار کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ مونگیر اور تاراپور ایسی ہی سیٹیں تھیں جہاں نقصان کچھ حد تک بی جے پی امیدواروں کو بھی پہنچ رہا تھا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق مونگیر اسمبلی سیٹ سے جَن سوراج کے امیدوار سنجے سنگھ نے اپنی حمایت بی جے پی کو دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح تاراپور میں بی ایس پی امیدوار آشیش آنند نے اپنی امیدواری واپس لینے کا اعلان کرتے ہوئے سمراٹ چودھری کی حمایت ظاہر کی ہے۔ ان دونوں ہی سیٹوں پر مقابلہ سہ رخی ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اب مقابلہ سیدھے طور پر مہاگٹھ بندھن اور بی جے پی امیدواروں کے درمیان ہوگا۔ تاراپور میں سمراٹ چودھری کا مقابلہ آر جے ڈی امیدوار ارون ساہ سے ہے۔ ارون ساہ گزشتہ بار محض 4000 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ اس مرتبہ سمراٹ کی فتح مشکل دکھائی دے رہی تھی، لیکن انھیں کامیاب بنانے کے لیے این ڈی اے نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔
تاراپور میں آشیش کو بی جے پی نے اپنی طرف کھینچ کر ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اسی طرح مونگیر کی انتخابی جنگ میں بی جے پی پھنسی ہوئی معلوم پڑ رہی تھی۔ 2020 میں بی جے پی کو اس سیٹ پر محض 1244 ووٹوں سے جیت ملی تھی۔ جَن سوراج کی آمد سے اس بار یہاں کی لڑائی دلچسپ ہو گئی تھی۔ بی جے پی امیدوار کی شکست ایک طرح سے یقینی معلوم پڑ رہی تھی، لیکن آخر وقت میں جَن سوراج امیدوار نے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیے اور بی جے پی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔