بنگلورو، 30 ستمبر (یو این آئی ) سابق ہندوستانی وکٹ کیپر سید کرمانی نے جدید کرکٹ میں اخلاقی گراوٹ کے لئے ہندوستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے ٹیم پر الزام لگایا کہ وہ سیاست کو ایک ایسے کھیل میں گھسیٹ رہی ہے جو کبھی شائستگی اور منصفانہ کھیل کا مظہر تھا۔ کرمانی نے کہا ہندوستانی ٹیم اور عالمی سطح پر کرکٹ بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “غیر مہذب رویے اور تکبر اور گھمنڈ نے میدان میں سادہ اور عمدہ آداب کی جگہ لے لی ہے۔ یہ صرف ایشیا کپ کے بارے میں نہیں ہے، جو ہندوستان نے جیتا ہے، بلکہ یہ ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کا حصہ ہے۔ مجھے امریکہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ ہندوستانی ٹیم کو کیا ہوگیا ہے؟ گراؤنڈ پراتنی سیاست کیوں ہو رہی ہے۔ میں اپنے بیرون ملک دوستوں سے ایسے الفاظ سن کر شرمندہ ہوں۔ کرمانی نے واضح کیا کہ کرکٹ میں سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ میدان سے باہر جو کچھ بھی ہوتا ہے ،چاہے وہ ذاتی خواہش ہو یا سیلاب سے نجات جیسا عظیم مقصد ،اسے کبھی بھی میدان میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے۔ کرکٹ سیاسی فائدے کا پلیٹ فارم نہیں ہے۔ یہ ہر کھلاڑی، ہر ٹیم اور ہر کرکٹ بورڈ کا پختہ یقین ہونا چاہیے۔
انہوں نے اپنے دور سے بالکل مختلف دور کی بات کی۔ “ہمارے زمانے میں کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں تھی یہ احترام اور بھائی چارے کی علامت تھی۔ پاکستانی کھلاڑی ہندوستان آتے، ہم پاکستان جاتے، ہم اہل خانہ کی خیریت دریافت کرتے، سلام و دعا کا تبادلہ کرتے اور گرمجوشی سے ملتے۔ وہ دنیا اب نہیں رہی، کہاں گئی؟ آج اسے جو پیغامات مل رہے ہیں وہ عالمی نفرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایشیا کپ میں کیا ہوا، آج کرکٹ کیا بن گئی ہے- یہ میرے لیے اور ان لاتعداد کرکٹ شائقین کے لیے بہت مایوس کن ہے جو اس کھیل کو اس کے وقار کے لیے پسند کرتے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ ان کا ردعمل کیا ہے، کرمانی نے ذاتی لیکن اصولی جواب دیا: ایک کرکٹر اور کرکٹنگ کمیونٹی کے ایک رکن کے طور پر میں اپنا سر جھکاتا ہوں، سیاست کو میدان سے دور رہنا چاہیے، احترام، تہذیب اور ہمدردی یہ میدان کے اندر ہی رہنا چاہیے۔ ورنہ کرکٹ کی روح، جو پہلے ہی خطرے میں ہے، مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔”









