نئی دہلی29 ستمبر: ’اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد‘ (اے بی وی پی) کے سابق لیڈر پرنٹو مہادیو کا کانگریس رکن پارلیمنٹ و لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سے متعلق متنازعہ بیان دیے جانے سے کانگریس سخت ناراض ہے۔ پرنٹو کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے کانگریس نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر جم کر حملہ بولا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ جو لوگ نظریاتی لڑائی میں شکست کھا رہے ہیں اور جن کی (ووٹ) چوری پکڑی جا چکی ہے، وہ اب اپوزیشن کے لیڈر کی آواز کو دبانے کی سازش کر رہے ہیں۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے اس معاملے میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹو مہادیو کی راہل گاندھی کو دھمکی ایک خوفناک اور گھناؤنی سازش ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی کے ایک ترجمان (پرنٹو مہادیو) نے ٹیلی ویژن پر کہا کہ راہل گاندھی کے سینے میں گولی ماری جائے گی اور اب تک اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل سی آر پی ایف نے راہل گاندھی کی سیکورٹی کے متعلق کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کو ایک خط لکھا اور اسے لیک کر دیا۔ تو پھر ان کی سیکورٹی کو سیاسی رنگ کیوں دیا جا رہا ہے اور ایسا ماحول کیوں بنایا جا رہا ہے؟ پون کھیڑا کے مطابق اس پورے واقعہ سے سازش کی بو آ رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ سازش کون کر رہا ہے؟ پون کھیڑا کے مطابق یہ وہی لوگ ہیں جو نظریاتی لڑائی ہار رہے ہیں، جن کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اب یہ سازش سب کے سامنے آنی چاہیے۔ پہلے تو آپ نے راہل گاندھی کو گولیوں سے خاموش کرانے کی کوشش کی اور اب آپ انہیں گولیوں سے ڈرانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی برداشت نہیں کر پا رہی ہے کہ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک لوگ راہل گاندھی کی جانب سے اٹھائے جا رہے مسائل کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ کی چوری رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے، اب آپ کو سمجھ آ گیا ہے کہ آپ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔