نئی دہیلی 25ستمبر : مودی حکومت کے فلسطین پر مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے زور دیا ہے کہ بھارت کو ایک بار پھر انسانی حقوق اور انصاف کے علمبردار کے طور پر اپنا تاریخی کردار بحال کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اہم مسئلے پر خاموشی کا مطلب شراکت داری ہے، اور بھارت کو اصولی سفارت کاری کی طرف واپس آنا ہوگا۔
کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو فلسطین کے مسئلے پر قیادت دکھانی چاہیے۔ انہوں نے نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ردعمل ’’گہری خاموشی‘‘ اور انسانیت و اخلاقیات دونوں سے انحراف پر مبنی ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ حکومت کے اقدامات زیادہ تر وزیر اعظم مودی اور ان کے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کے ذاتی تعلقات پر مبنی نظر آتے ہیں، نہ کہ بھارت کی آئینی اقدار یا اس کے اسٹراٹیجک مفادات پر۔








