نئی دہلی10ستمبر: لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بدھ کے روز اپنے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی کے 2 روزہ دورے پر پہنچے۔ علاقے میں ایک تقریب کے مقام پر پہنچنے سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ ’’ہمارا کلیدی نعرہ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ ہے، اور یہ پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔ آنے والے وقت میں ہم اسے بار بار مزید اثرانداز طریقے سے ثابت کریں گے۔‘‘ ددولی میں ہرچند پور اسمبلی کے پارٹی کارکنان کے ساتھ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مہاراشٹر اور کرناٹک میں ’ووٹ چوری‘ کے واقعات کا ذکر کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ لوک سبھا انتخاب کے بعد ہوئے مہاراشٹر اور کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ووٹ چوری کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ایک رپورٹ میں راہل گاندھی کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’مہاراشٹر میں کانگریس اور انڈیا بلاک لوک سبھا میں جیتا، پھر 4 ماہ بعد اسمبلی میں صفایا ہو گیا۔ جب ہم نے جانچ کی تو پتہ چلا کہ لوک سبھا انتخاب کے بعد تقریباً ایک کروڑ نئے ووٹرس الیکشن سسٹم میں شامل ہوئے تھے۔ ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے ووٹ وہی رہے، لیکن سبھی نئے ووٹ بی جے پی کو ملے۔‘‘ بی جے پی پر ووٹ چرانے کا الزام عائد کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ایسے واقعات صرف بنگلورو یا مہاراشٹر تک ہی محدود نہیں ہے۔ اتر پردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں بھی یہی بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ دھیرے دھیرے ہم آپ کے سامنے سارے ثبوت پیش کر رہے ہیں۔
بہار میں اپنے حالیہ ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ وہاں بھی بے ضابطگیاں دیکھی گئیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’’کچھ لوگ تو زندہ ہیں، ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ ریکارڈ میں انھیں زندہ نہیں مانا جا رہا ہے۔‘‘