پٹنہ 30اگست: کانگریس کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارتی کے صدر اکھلیش یادو نے راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے ساتھ شرکت کی۔ یاترا کے دوران اکھلیش یادو نے بی جے پی پر سخت حملہ بولتے ہوئے کہا کہ بہار کے عوام کو بھی وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو اودھ کے عوام نے کیا تھا۔ یاترا کے 14ویں دن اکھلیش یادو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اودھ کے عوام نے بی جے پی کو ہٹایا ہے، ہمیں امید ہے کہ مگدھ کے لوگ بھی بی جے پی کو ہٹائیں گے اور بی جے پی کی کی ہجرت ہوگی۔‘‘ انہوں نے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’ایس آئی آر دھوکہ دینے کی بات ہے، یہ سرپھرا فیصلہ ہے، کمیشن کے اس فیصلے سے ظاہر ہے کہ ووٹ چوری کے ساتھ ووٹ کی ڈکیتی کی تیاری ہے۔‘‘ اکھلیش یادو نے زور دیا کہ بہار میں عوام کو ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ جمہوریت اور آئین پر کسی قسم کا حملہ کامیاب نہ ہو سکے۔ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کی تعریف کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا، ’’مجھے خوشی ہے کہ راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور بہار کے عوام نے ووٹ چوری کے معاملہ پر تحریک چھیڑی۔ بی جے پی بہار سے باہر ہوگی اور اس کی ہجرت طے ہے۔‘‘ ان کے مطابق یہ تحریک صرف سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ عوامی حقِ رائے دہی کی حفاظت کے لیے ہے۔ قبل ازیں، پٹنہ ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھی انہوں نے اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کی زمین پر اپوزیشن کو مل رہی عوامی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی کی واپسی کے دن قریب ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار سے اٹھنے والی یہ آواز پورے ملک میں گونجے گی۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے کے بجائے حکومت کے اشارے پر کام کر رہا ہے۔








