تنسکیا28اگست: اب آسام میں کسی ایک مذہب کے فرد کے لیے اپنا گھر دوسرے مذہب کے شخص کو بیچنا آسان نہیں ہوگا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اس حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں، وزیراعلیٰ نے ریاست میں بین مذاہب اراضی کی منتقلی سے متعلق ایک نئے رہنما خطوط کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کی کابینہ کے اجلاس میں اس سلسلے میں ایک ایس او پی (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسام جیسی حساس ریاست میں دو مذہبی برادریوں کے درمیان زمین کا لین دین بہت احتیاط سے کیا جانا چاہئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اب سے ایسی تمام تجاویز براہ راست حکومت کو پیش کی جائیں گی۔ ان کے مطابق حکومت ہر تجویز کی جانچ کرے گی۔ یہ دیکھا جائے گا کہ زمین خریدنے کے لیے فنڈز کا کیا ذریعہ ہے، کیا یہ انکم ٹیکس گوشواروں میں درج ہے اور کیا اس فروخت سے اس علاقے کے سماجی تانے بانے پر کوئی اثر پڑے گا۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ مقامی لوگوں کو کوئی اعتراض ہے یا نہیں اور اس کا صحیح طریقے سے ازالہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ بعض صورتوں میں اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ جانچ مکمل ہونے کے بعد حکومت ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو مطلع کرے گی کہ زمین کی منتقلی کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ حتمی فیصلہ ڈی سی کا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ باہر کی این جی اوز، جو آسام میں تعلیم اور صحت کے ادارے قائم کرنا چاہتی ہیں، کی تجاویز کا قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی زمین کی فروخت کی اجازت دی جائے گی۔