نئی دہلی 28اگست: آر ایس ایس کو مسلم مخالف بتایا جاتا ہے، لیکن جمعرات کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایسی بات کہی جو مسلمانوں کو بھی پسند آئے گی۔ مذہب تبدیلی اور غیر قانونی دراندازی سے متعلق سوالات پر موہن بھاگوت نے کہا کہ مذہب ذاتی پسند کا معاملہ ہے، اس میں کسی قسم کا لالچ یا دباؤ نہیں ہونا چاہئے۔ جہاں تک دراندازی روکنے کا تعلق ہے تو حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں غیر قانونی تارکین کو نوکری نہیں دینی چاہئے۔ ہمیں اپنے ہی لوگوں کو، اپنے یہاں کے مسلمانوں کو نوکریاں دینی چاہئیں۔ ساتھ ہی انہوں نے تین بچوں کو جنم دینے کا بھی مشورہ دیا۔ آر ایس ایس کے 100 سال پورے ہونے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان میں آبادی کے توازن میں تبدیلی کے پیچھے تین وجوہات ذمہ دار ہیں۔ پہلی وجہ، تبدیلی مذہب، جو روایت کے خلاف ہے۔ کچھ مسلم علمائے کرام نے مجھ سے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب اسلام میں بھی حرام ہے۔ دوسری وجہ، غیر قانونی نقل مکانی، جو روزگار اور سماجی تناؤ کی صورتحال پیدا کرتی ہے۔ اور تیسری وجہ، آبادی میں اضافے کی شرح، جس پر توازن ضروری ہے۔ ایک طبی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم از کم تین بچے پیدا ہونے چاہئیں تاکہ ری پلیسمنٹ کی شرح برقرار رہے اور معاشرے میں عدم توازن پیدا نہ ہو۔ موہن بھاگوت نے واضح طور پر کہا کہ حکومت غیر قانونی نقل مکانی کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن سماج کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ غیر قانونی تارکین کو نوکریاں نہ دی جائیں۔ معاشرے کو باہر کے لوگوں کی بجائے اپنے ہم وطنوں پر اعتماد کرنا چاہئے اور سب کو یکساں موقع دینا چاہئے ۔








