نئی دہلی 27اگست: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘ والے نعرے اور خارجہ پالیسی کی ناکامی کا خمیازہ ہندوستانی کسانوں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج سے ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صرف دس بڑے سیکٹرز میں ہی 2.17 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ کھڑگے نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان کے کسانوں پر پڑے گا، بالخصوص کپاس کے کاشتکاروں کی حالت نہایت خراب ہوگی۔ انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’آپ نے کہا تھا کہ کسانوں کو بچانے کے لیے کسی بھی ذاتی قیمت کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن حقیقت میں آپ نے ان کے روزگار اور زندگیوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔‘‘ کھڑگے کے مطابق، گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (جی ٹی آر آئی) کی رپورٹ کہتی ہے کہ اس ٹیرف کے سبب ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً ایک فیصد متاثر ہو سکتا ہے، جب کہ اس سے چین کو فائدہ ہوگا۔ کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ کئی برآمدات پر مبنی صنعتوں میں بڑے پیمانے پر روزگار ختم ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بحران مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ صرف ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہی تقریباً پانچ لاکھ افراد کے روزگار پر براہِ راست اور بالواسطہ خطرہ منڈلا رہا ہے۔ جواہرات اور زیورات کے شعبے میں بھی ڈیڑھ سے دو لاکھ ملازمتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ کھڑگے نے کہا کہ سوراشٹر خطے میں ہیرا تراشی اور پالش کے کام سے جڑے تقریباً ایک لاکھ مزدور اپریل سے بے روزگار ہو چکے ہیں، جب سے امریکی حکومت نے 10 فیصد ابتدائی ٹیرف نافذ کیا تھا۔








