پٹنہ 27اگست: بہار میں کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کی ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں بدھ کو ایک بڑا سیاسی منظر دیکھنے کو ملا جب تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن، ان کی بہن کنی موجی کے ساتھ اس یاترا میں شامل ہوئے۔ یہ یاترا بدھ کے روز دربھنگہ سے مظفرپور پہنچی جہاں راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور ان کے اتحادی جماعتوں کے قائدین نے ریلی سے خطاب کیا۔ مظفرپور میں منعقدہ جلسے میں ایم کے اسٹالن نے بی جے پی پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے جمہوریت کے دفاع کے لیے ہاتھ ملایا ہے اور بہار کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں 2000 کلو میٹر دور سے آیا ہوں اور دیکھ لیا ہے کہ عوام کا فیصلہ ہو چکا ہے، بی جے پی ہار رہی ہے۔‘‘ ایم کے اسٹالن نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس نے انتخابی عمل کا مذاق بنایا ہے اور عوام کے ووٹ چوری کیے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’بی جے پی نے الیکشن کمیشن کو اپنی کٹھ پتلی بنا دیا ہے اور انتخابی فہرست سے 65 لاکھ ووٹروں کے نام ہٹانا دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک عمل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے ووٹوں کی چوری اور الیکشن کمیشن کی بے عملی کو بے نقاب کیا ہے لیکن کمیشن نے اب تک ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈی ایم کے سربراہ نے جلسہ میں زور دے کر کہا کہ ’’بی جے پی نے الیکشن کو مذاق بنایا ہے، لیکن لوگ اس سے اقتدار چھین لیں گے۔ راہل گاندھی خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں، ان کی آنکھوں اور الفاظ میں کبھی ڈر نظر نہیں آتا۔‘‘ اسٹالن کے اس بیان پر مجمع نے پرجوش نعرے لگائے۔ جلسے میں شرکت کے فوری بعد ایم کے اسٹالن نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بھی اپنا پیغام جاری کیا۔ انہوں نے لکھا: ’’بہار، لالو پرساد یادو کی سرزمین، جس نے آنکھوں میں آگ لیے میرا استقبال کیا، ہر چرائے گئے ووٹ سے بوجھل زمین… میں نے اپنے بھائی راہل گاندھی، تیجسوی یادو اور بہن پرینکا گاندھی کے ساتھ ’ووٹر ادھیکار یاترا‘ میں شرکت کی جو عوام کے درد کو ناقابل شکست طاقت میں بدل رہی ہے۔