انسانیت کی روشنی گم ہوگئی کہاں
سائے تو ہیں آدمی کے، مگر آدمی کہاں
19 اگست کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ انسانیت‘‘ (World Humanity Day) منایا جاتا ہے۔ تقریریں ہوتی ہیں، سیمینار سجتے ہیں، عالمی ادارے اپنے اعلانات دہراتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری سرگرمیاں محض رسمی دکھاوا ہیں۔ اگر واقعی انسانیت زندہ ہوتی، تو آج فلسطین کی زمین لہو سے نہ تر ہوتی۔
آج فلسطین میں انسانیت کا قتل عام ہورہا ہے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، ہزاروں مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو کھو چکی ہیں، اور ہر روز درجنوں معصوم بچے مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں۔ اسپتال ملبے کا ڈھیر ہیں، اسکول قبرستان میں تبدیل ہو گئے ہیں، ہر چیز کھنڈر بن چکی ہے۔ ایسے میں ہر انصاف پسند، باضمیر انسان سوال کر رہا ہے کہ جب عالمی ضمیر ان کفنوں کو دیکھ کر بھی نہ جاگے، تو پھر یہ ’’یومِ انسانیت‘‘ کس کے لیے ہے؟
اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذ کے ڈھیر کے سواکچھ نہیں۔اقوام متحدہ اور اس سے منسلک تمام تنظیموں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی دعوے دار ہے، فلسطین پر آ کر خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ اسرائیل کے لیے ڈھال اور فلسطینیوں کے لیے آنسو بہانے والے بیانات—یہی وہ دوغلا پن ہے جو انسانیت کو شرمندہ کر رہا ہے۔ایک طرف ”انسانی ہمدردی” کے ترانے گائے جاتے ہیں، دوسری طرف فلسطین کی چیختی چلاتی ماؤں اور معصوم بچوں کی آہوں پر کان بند کر لیے جاتے ہیں۔ آج جب دنیا اندھی بنی ہوئی ہے، تو عوام اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں کھڑے ہوں۔ اگر ہم مظلوم کے ساتھ آواز نہیں ملائیں گے، تو یہ ہماری جمہوریت کے نام پر دھبہ ہوگا۔ اس ظلم میں سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے۔ مغربی میڈیا اسرائیل کو مظلوم اور فلسطینیوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرتا ہے۔ ادھر بھارتی’’گودی میڈیا‘‘ اسرائیلی بیانیہ دہرا کر عوام کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ جب میڈیا سچ بولنے کے بجائے جھوٹ کو بڑھا چڑھا کر دکھائے تو انسانیت کی جنگ پہلے ہی ہار جاتی ہے۔یہ سب کچھ اتفاقی نہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کر رہی ہیںاور اسرائیل خود ایک بہت بڑا اسلحہ کا سوداگر ہے اور اس کی معیشت (Economy) اسی پر ٹکی ہوئی ہے۔ کیونکہ ان کی معیشت کا پہیہ ہی جنگی سازوسامان سے چلتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے اسلحہ ساز ادارے ہر دھماکے اور ہر قتل سے منافع کماتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا لہو دراصل ’’وار انڈسٹری‘‘ کے لیے ایک کاروبار ہے۔جب عالمی طاقتیں اندھی بنی ہوں تو عوام کو بیدار ہونا ہوگا۔ اسرائیلی مصنوعات اور کمپنیوں کا بائیکاٹ ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ اگر دنیا بھر کے لوگ متحد ہو کر اسرائیلی اشیاء اور ان کے سرمایہ کاروں کو مسترد کریں تو یہ ایک پرامن مگر طاقتور احتجاج ہوگا جو ہمارے فلسطینی بھائیوں کے حق میں ہوگا اور ہم کہیں نا کہیں ان مظلوموںکے ساتھ شمار ہوں گے۔
گر رہا ہے دن بدن انسانیت کا مقام
اور انسان کا دعویٰ ہے کہ ہم ترقی پر ہیں
فلسطین کی گلیوں میں آج بھی بارود کی بدبو ہے، ہر گھر کے در و دیوار پر خون کے دھبے ہیں۔ وہاں ماؤں کے ہاتھ میں کھلونا نہیں، اپنے بچے کا خون آلود لباس ہے۔ وہاں باپ کے ہاتھوں میں اپنے لختِ جگر کا چھوٹا سا جنازہ ہے۔ایک باپ اپنے نومولود جڑوا بچوں کے پیدائشی سرٹیفکٹ بنوانے جاتا ہے واپس آتا ہے جب تک بچے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں، ماں باپ اپنے زخمی بچوں کو بانہوں میں لیے آخری سانسوں تک روتے ہیں۔ ہر دن درجنوں معصوم بچے مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں، جن کے لبوں پر ابھی ”اماں” اور ”ابا” کے الفاظ بھی پورے نہ ہوئے تھے۔ اسکول کی گھنٹیاں خاموش ہیں، ان کے اسکول بیگ مٹی تلے دب گئے ہیں، کتابوں کے اوراق خون سے تر ہیں۔ کوئی ذرا سوچے! کیا معصوم آنکھوں میں ڈر اور خوف کے سائے دیکھنا انسانیت ہے؟ کیا ایک بچے کی چیخ دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ اگر یہ سب دیکھ کر بھی ہمارے دل نہ لرزیں، تو پھر انسانیت کا لفظ ہمارے لیے شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو مسلم ممالک کی بے حسی ہے۔ او آئی سی اور مسلم ورلڈ لیگ رسمی قراردادوں کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ پڑوسی ملک اور ترکی کی طرف سے بھی بیانات ہی آتے ہیں لیکن عملی دباؤ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک امت کے ہونے دعوے دار جب خاموش تماشائی بن جائیں تو دشمن کے حوصلے خود بخود بڑھ جاتے ہیں۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ فلسطین کا زخم اکیلا نہیں۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔برما (میانمار) میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔ جہاں لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے کیمپوں میں دھکیل دیا گیا۔ ان کی بستیاں جلا دی گئیں، عورتوں کی عصمتیں پامال ہوئیں، اور معصوم بچوں کو زندہ آگ میں جھونکا گیا۔ دنیا نے یہ سب کچھ دیکھا مگر ’’انسانی حقوق‘‘ کے علمبردار ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔
بھارت میں بھی مسلمانوں کو CAA اور NRC کے نام پر شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاکھوں مسلمان اپنے ہی وطن میں ’’اجنبی‘‘ قرار دیے جارہے ہیں۔ آسام اور دیگر ریاستوں میں ڈٹینشن کیمپ پہلے ہی قائم ہیں جہاں غریب اور مجبور مسلمان بنیادی انسانی حقوق سے محروم قیدیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک ملک کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔یہ تمام مظالم ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ فلسطین ہو یا برما، بھارت کے مسلمان ہوں یا کہیں اور کے ہوں—ہر جگہ طاقتور ظالم اور کمزور مظلوم کے درمیان جنگ چل رہی ہے۔ اگر آج دنیا نے فلسطین کی چیخ نہ سنی تو کل یہ ظلم کسی اور خطے میں دہرایا جائے گا اور پوری قوت و طاقت سے دہرایا جائے گا۔ اس لیے ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیںہے، بلکہ یہ مسئلہ پوری انسانیت کا اجتماعی مسئلہ ہے۔آج جب عالمی طاقتیں اور میڈیا اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں تو عوام اور دانشوروں پر ذمہ داری دوگنی ہوگئی ہے۔ ہمیں اپنے قلم، اپنی تقریر، اپنے بائیکاٹ، اور اپنی اجتماعی آواز کے ذریعے فلسطین اور دیگر مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر ہم خاموش رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
یاد رکھیے! ’’عالمی یومِ انسانیت‘‘ تب ہی بامعنی ہوگا جب فلسطین میں جاری انسانیت کا قتل بند ہوگا، جب اسرائیل کے ظلم کا خاتمہ ہوگا، جب امن و انصاف قائم ہوگا، جب عالمی ادارے دوغلی سیاست کے بجائے سچائی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ورنہ یہ دن محض ایک مذاق، ایک رسمی تقریب اور ایک کھوکھلا نعرہ بن کر رہ گیا ہے اور بس کچھ نہیں بس رسمی تقاریب اور دوغلی بین الاقوامی سیاست ہے۔









