نئی دہلی 20اگست:پرائیویٹ کالج میں درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے ریزرویشن کے بڑھتے مطالبات کے درمیان پارلیمنٹ میں ایک رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ دگ وجئے سنگھ کی قیادت والی تعلیم سے متعلق ’ٹو پارٹی پارلیمنٹری اسٹینڈنگ کمیٹی‘ نے آج پارلیمنٹ میں پیش کی۔ رپورٹ میں پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات کے لیے ریزرویشن کی وکالت کی گئی ہے۔ اس کمیٹی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ درج فہرست ذات کے لیے 15 فیصد، درج فہرست قبائل کے لیے 7.5 فیصد اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے 27 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے والا قانون پاس کرے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل (5)15، جسے منموہن سنگھ کی حکومت نے 2006 میں 93ویں ترمیم میں شامل کیا تھا، وہ حکومت کو پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور او بی سی کے طلبا کے لیے ریزرویشن لازمی کرنے کا حق دیتا ہے۔
کمیٹی کے ذریعہ دی گئی رپورٹ کے مطابق مئی 2014 میں پرمتی ایجوکیشنل اینڈ کلچرل ٹرسٹ بنام یونین آف انڈیا معاملے میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل (5)15 کے جواز کو برقرار رکھا تھا۔ اس سے یہ صاف ہو گیا کہ پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھی ریزرویشن کی اجازت ہے۔ حال میں پارلیمنٹ کے ذریعہ ایسا کوئی قانون پاس نہیں کیا گیا ہے جو آرٹیکل (5)15 کو نافذ کرتا ہو اور پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے طلبا کے لیے ریزرویشن لازمی کرتا ہو۔