دہرہ دون12اگست: کوئی اپنوں کو تلاش رہا ہے، تو کوئی ہاتھوں میں مٹی اور ملبہ لیے اپنے لاپتہ مکان کے نشان تلاش رہا ہے، تو کوئی تصویر لے کر التجا کر رہا ہے کم از کم لاش ہی تلاش دو، تاکہ آخری رسومات ادا کی جا سکے۔ کوئی غم زدہ چہرہ کے ساتھ آنکھوں میں آنسو لیے قیامت خیز تباہی کے آثار دیکھ رہا ہے۔ اسی کے ساتھ امدادی ٹیم کچھ کچھ مشینوں اور کدال-پھاؤڑوں سے ملبہ ہٹانے کا کام کر رہے ہیں، لیکن اس کی رفتار اتنی سست ہے کہ مہینوں لگ جائیں گے، ٹنوں مٹی-ملبے کے نیچے دبے ’کچھ‘ کو باہر نکالنے میں۔ یہ منظر اتراکھنڈ کے دھرالی گاؤں کا ہے، جہاں 5 اگست کو قدرت کا قہر قیامت بن کے ٹوٹ پڑا اور پہاڑوں پر کہیں اوپر سے آیا پانی کا سیلاب اپنے ساتھ مٹی-پتھر، درخت- پودے اور زندگیوں کو ختم کرتا ہوا دھرالی کے سینے کو روند گیا۔ اس قیمات کے گزر جانے کے بچے ہوئے نشان میں زندگی کی تلاش تو کی جا رہی ہے، لیکن کیا وہ نتیجہ خیز ہو گا، کہنا مشکل ہے۔ روزنامہ ’بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد بھی اب تک صرف 2 لاشیں برآمد کی جا سکی ہیں، وہ بھی ان لوگوں کی جو ملبے اور دلدل کے اوپر تھیں۔ بقیہ تقریباً 80 ایکڑ رقبے پر پھیلے ملبے اور مٹی میں تو کچھ تلاش کیا جانا ہی ناممکن لگ رہا ہے۔ روزنامہ ’بھاسکر‘ کی رپورٹ کے مطابق دھرالی گاؤں کا زیادہ تر حصہ ملبے میں دفن ہو چکا ہے۔ مین مارکیٹ، دکانیں، ہوٹل اور ریستوراں ملبے کے نیچے کہاں پر ہیں، اس کا اندازہ دھرالی میں رہنے والے لوگ بھی نہیں لگا پا رہے ہیں۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلاب اتنی تیزی سے آیا کہ مکانات کئی کئی میٹر دور تک کھسک گئے ہیں۔ ایک گھر تو گاؤں سے تقریباً 200 میٹر کھسک کر چلا گیا۔









