بھوپال:25؍جولائی:گزشتہ دنوں بھوپال میں واقع بی ایچ ای ایل حضرت نظام الدین کالونی کی جامع مسجد میں جمیعۃ علماء کا ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں بی، ایچ، ای ایل کے مختلف مساجد کے ائمہ، موذنین علماء اور حفاظ نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز حافظ عمر سلمہ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف عالم دین ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی نے انجام دیے۔اس پروگرام کی صدارت مولانا محمد احمد خان صاحب نے کی آپ نے اپنی صدارتی خطاب میں ارشاد فرمایا:
اس وقت پورا ملک انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ اس ملک میں آزادی کے بعد ملت کے اوپر بہت مشکل حالات آئے، لیکن اس وقت مسئلہ ہمارے ایمان و عقیدہ سے وابستہ ہے۔ ہماری نسل کو ایمان اور اسلام سے محروم کر کے ارتداد کے راستے پر لے جانے کی منظم کوشش ہو رہی ہے۔ مزید برآں کچھ صوبائی اور مرکزی حکومتیں تعلیم اور ثقافت کے نام پر امت مسلمہ کے بچوں کو ان کے مذہب سے ارتداد کے راستے پر جانے کے لیے نہ صرف کوششیں کر رہی ہیں بلکہ جبر کا راستہ بھی اختیار کیا جا رہا ہے جو نہایت غلط اور قابل مذمت عمل ہے۔
مفتی ضیاءاللہ صاحب قاسمی اپنے کلیدی خطاب میں جمیعۃ العلماء ہند کے قیام اور جنگ آزادی میں علماء کرام کی جدوجہد اور قربانیوں کا مفصل ذکر فرمایا آپ نے فرمایا آزادی ہند کی خاطر شاملی کے میدان میں علمائے کرام نے جام شہادت نوش فرمایا بظاہر اس معرکہ میں ناکامی نظر آئی لیکن وطن کی آزادی میں حصہ لینے والوں اور علماء کے حوصلے پست نہیں ہوئے چنانچہ اس تحریک آزادی کو اسیر مالٹا حضرت مولانا محمود الحسن صاحب نور اللہ مرقدہ اور ان کے شاگرد رشید حضرت مولانا سید حسین مدنی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر رفقاء نے خلوص دل کے ساتھ شریک ہو کر اس تحریک کو پروان چڑھایا جس میں دیگر غیر مسلم ابنائے وطن نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہزاروں علماء کی شہادت کے بعد انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑا تب کہیں جا کر یہ آزادی نصیب ہوئی لیکن انگریز جاتے جاتے اپنی شاطرانہ چال سے ہندوستان کے دو ٹکڑے کر گیا جو ہندوستان اور پاکستان کے نام پر آج بھی موجود ہیں۔ حالانکہ جمیعۃ علماء ہند آخری وقت تک پاکستان بنائے جانے کے حق میں نہیں تھی انگریز اپنی شاطرانہ چالوں میں کامیاب ہوا اور 1947 میں آزادی کے بعد ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ان حالات میں بھی جمعیۃ علماء ہند سینہ سپر ہو کر میدان میں آئی اور اپنے مقدور بھر اس کا دفعیہ کیا اور جب جب ہندوستان میں جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کی گئی یا مذہبی معاملات میں مداخلت کی گئی تو دستور ہند نے جو حقوق دیے ہیں ان کو مدنظر رکھ کر جدوجہد کی اور آج بھی جمیعۃ علماء ہند ہر موقع پر قانون کے خلاف ورزیوں پر فرقہ پرستی کے خلاف پوری جدوجہد سے اس کی مدافعت کرتی ہے اس لیے آج کے حالات میں ہمیں جمیعۃ علماء ہند کا ساتھ دینا چاہیے۔
جلسہ کومفتی رشید الدین صاحب قاسمی نے بھی مخاطب کیا اورکہا کہ خدمت میں ہمیشہ آگے رہنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے مالی تعاون سے آج جیلوں سے سینکڑوں غریب قیدی آزاد ہو ہوچکے ہیں۔مفتی مجیب صاحب قاسمی صدر جمیعۃ علماء بھوپال نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں جمعیۃعلماء ہند کی یہ کوشش رہی ہے کہ کس طرح ملک میں امن وامان کی فضاء قائم کی جائے اور ملک کی سب سے بڑی قوموں یعنی ہندواورمسلمان کے درمیان ایک بارپھر صدیوں پرانی روایت بھائی چارہ،آپسی پیارومحبت کی فضاء قائم کی جائے۔کیونکہ ادھرچند سالوں سے فرقہ پرست لوگوں کی سرگرمیوں اورسازشوں کی وجہ سے دیکھا یہ جارہاہے کہ ان دونوں قوموں میں کہیں نہ کہیں ایک دراڑسی پڑگئی ہے جسے فی الفورپاٹنے کی ضرورت ہے۔
صدر جمیعۃ علماء مدھیہ پردیش مولانا محمد احمد خان صاحب کی دعا پر اس مشاورتی اجلاس کا اختتام ہوا، بعدہ اس پروگرام کے روح رواں قاری محفوظ صاحب جامعی نے آئے ہوۓ تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔









