بھوپال:25؍جولائی:پریس نوٹ:گزشتہ دنوں مسجد فتح مدینہ بی بی، گاؤں گویا، اینٹ کھیڑی (بھوپال) میں واقع مکتب حضرت علیؓ میں گذشتہ روز ایک پُروقار جلسۂ تقسیمِ انعامات کا انعقاد عمل میں آیا۔ یہ جلسہ مکتب کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم محمد عیاض سلمہٗ کے ناظرہ قرآن کی تکمیل کی خوشی میں منعقد کیا گیا، انہیں اس موقع پر سند کے ساتھ ساتھ انعامات سے بھی سرفراز کیا گیا۔جلسے کی ابتداء مکتب کے طالب علم محمد عیاض کی تلاوت قرآن سے ہوئی بعد ازاں مکتب کے بچوں کے مختصر مگر مؤثر پروگرام ہوئے، جس میں طلباء نے قرآن کی تلاوت، نعت،تقریر، نظم مکالمے اور حمد وغیرہ پیش کر کے حاضرین کو خوب متاثر کیا۔ اس کے بعد تمام ہی بچوں کو ان کی محنت اور کارکردگی کے اعتراف میں انعامات سے نوازا گیا۔اس موقع پر تشریف لائے مولانا حیدر صاحب فلاحی نے اصلاحی خطاب فرمایا، جس میں تعلیم، نظم و ضبط اور والدین کے حقوق پر روشنی ڈالی۔آپ نے مزید فرمایا کہ اس طرح کے مکاتب اصل میں دین کے قلعے ہیں جہاں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تربیت کا بھی مکمل نظم کیا جاتا ہے۔ حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ قرآن کریم کواس کے معنی و مطلب کے ساتھ پڑھنا ہم سب کے لئے ضروری ہے، ساتھ ہی ساتھ نمازوں اور ذکر و تلاوت کی پابندی کا اہتمام ہر ایک مسلمان کے ذمہ لازم ہے جس میں کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیںہے ۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گاؤں گویا ، اینٹ کھیڑی کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں کی اکثریت محنت کش، مزدور اور معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے باوجود مکتب کے اس جلسے کو کامیاب بنانے میں اہلِ علاقہ نے جس محبت، خلوص اور جوش کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ لوگوںکی بڑی تعداد نے اپنی مصروفیات ترک کر کے اس دینی و تعلیمی تقریب میں بھرپور شرکت کی، جب کہ بچوں نے بھی پورے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے کر اپنے اندر علم و ادب کی پیاس کا عملی ثبوت دیا۔ یہ منظر واضح طور پر بتا رہا تھا کہ اگر دیہی علاقوں میں مواقع دیے جائیں تو یہاں کی مٹی بھی علم و ہنر کے پھول کھلا سکتی ہے۔یہ جلسہ مقامی سطح پر دینی تعلیم کی ترویج اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی ایک کامیاب مثال بن کر ابھرا، جس پر منتظمین اور مقامی عوام داد کے مستحق ہیں۔یہ جلسہ ہمیں اُس بنیادی پیغام کی یاد بھی دلاتا ہے جو قرآنِ مجید کی سب سے پہلی وحی میں دیا گیا اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقْ ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تعلیم کو انسان کی ترقی، شعور اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ موجودہ دور میں جب قومیں علم کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں، ایسے میں دینی مکتب کا یہ کردار – کہ وہ قرآن سکھائے، ادب سکھائے، اور بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت بھی کریں- کسی نعمت سے کم نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے بچوں کو دینی و دنیاوی تعلیم دونوں سے آراستہ کریں تاکہ وہ ایک باوقار، بااخلاق اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔واضح رہے کہ پروگرام میں خصوصی طور پر سابق ڈی جی اور معروف سماجی خدمت گار محترم جناب وزیر انصاری صاحب (آئی پی ایس) موجود رہے ۔آپ نے اپنے جامع اور مختصر بیان میں نہ صرف بچوں کی رہنمائی فرمائی بلکہ ناظم مکتب حافظ نعمان صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی۔ آپ نے بچوں کو دینداری، وقت کی قدر، اور دینی و دنیوی علم کے حصول کی اہمیت پر قیمتی نصیحتیں بھی کیں۔ نیز آپ ہی کے ہاتھوں طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کئے گئے۔جلسہ کی نظامت اور اختتامی اظہارِ تشکر ناظمِ مکتب حافظ نعمان صاحب نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔جلسے میں بطورِ خاص ایڈوکیٹ جناب عابد علی حیدر، صدر سلمان شاہ، مولانا محمد عامر کے علاوہ علاقہ بھر سے بڑی تعداد میں معززین و عوام نے شرکت کی۔









