بھوپال:23؍جولائی:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ کسان ہو یا عام آدمی، پودے خریدنے اور لگانے اور ان کو اگانے میں زیادہ خرچ آتا ہے، اس لیے ہر کسی کو نرسری اور باغات لگانے کی ترغیب دی جانی چاہیے، لیکن محکمہ باغبانی انھیں پودے فراہم کرے۔ پھلدار اور سایہ دار پودے جو کم خرچ میں زیادہ فائدے دیتے ہیں کثرت سے لگائے جائیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اور کسانوں کو بھی شجرکاری کے کام میں جوڑنا چاہیے۔ زیادہ فوائد دینے والے پودوں کی انواع کا انتخاب کیا جائے، تاکہ مستقبل میں ان کی طلب کے مطابق سپلائی (پودے کی پیداوار) بھی تیار کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو بدھ کو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ واقع سمتوا بھون میں ‘ایک پید ماں کے نام مہم کا جائزہ لے رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاست کے کسانوں اور پرائیویٹ سیکٹر کو بھی ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ مہم سے جوڑنا چاہیے۔ تمام محکمے ٹارگٹ کے حصول کے لیے شجر کاری کو تیز کریں اور لگائے گئے پودوں کی نگرانی بھی بہتر انداز میں کریں۔ محکمہ باغبانی کو چاہیے کہ وہ کاشتکاروں کو پھلوں کے درخت لگانے کی ترغیب دیں، تاکہ مستقبل قریب میں پھلوں کی فروخت سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ ‘ایک بگیہ ماں کے نام’ کے ذریعے، ریاستی حکومت سیلف ہیلپ گروپوں کی خواتین کی آمدنی بڑھانے کے لیے بھی عہد بند ہے۔ انہیں پھلوں کے باغات تیار کرنے کے لیے تین سال تک مالی امداد دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی اپیل پر ‘ایک پیڑ ماں کے نام’ مہم 5 جون سے ریاست بھر میں چلائی جا رہی ہے، جو 30 ستمبر تک چلے گی۔ پرنسپل سکریٹری ماحولیات نے بتایا کہ میری لائف پورٹل عالمی یوم ماحولیات سے شروع کی گئی ‘ایک پیڑ ماں کے نام مہم’ کی نگرانی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ 5 جون سے اب تک ریاست کے مختلف محکموں اور اضلاع میں 5 کروڑ 54 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں اور پورٹل پر ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس مہم میں اکیلے محکمہ جنگلات نے سال 2025-26 میں 3.40 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس ہدف کے مقابلے میں 22 جولائی تک 5 کروڑ 38 لاکھ سے زائد پودے لگائے جا چکے ہیں۔محکمہ جنگلات نے کل شجرکاری کا 95 فیصد سے زائد حاصل کر لیا ہے۔ محکمہ جنگلات نے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا تھا، جس میں شجرکاری کے علاقوں کو مہم سے جوڑنا، حکومت کی ہدایات کے مطابق شجرکاری کی تیاری، مشترکہ فاریسٹ مینجمنٹ کمیٹیوں کی فعال شرکت، پلانٹیشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے پودوں کی نگرانی اور “میری لائف” پورٹل پر شجرکاری کی باقاعدہ معلومات اپ لوڈ کرنا شامل ہے۔
مہم کی اب تک کی پیش رفت
‘ایک پیڑ ماں کے نام مہم میں محکمہ اعلیٰ تعلیم نے 1.60 لاکھ پودے لگانے کا ہدف رکھا ہے۔ اب تک ریاست کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں اور کالج کیمپس میں ایک لاکھ سے زیادہ دیسی پھلوں کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔ اسی طرح محکمہ شہری ترقی اور ہاؤسنگ نے 1 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ہدف کے خلاف ریاست کے تمام شہری اداروں میں 4.15 لاکھ سایہ دار اور دواؤں کے پودے لگائے گئے ہیں۔ یہ مہم شہری علاقوں میں شہری جنگل (گرین کور) بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔ محکمہ پنچایت اور دیہی ترقی نے بڑے پیمانے پر سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو شجرکاری مہم سے جوڑا ہے۔
اب تک 7 ہزار سے زائد خواتین کو شجرکاری کی جگہ کا دورہ کیا جا چکا ہے۔ محکمہ کا منصوبہ ہے کہ لگائے گئے تمام پودوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خواتین کے خود مدد گروپوں کو سونپ دی جائے۔
مہم کے تحت محکمہ اسکول ایجوکیشن نے 86 لاکھ 27 ہزار سے زائد پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب تک ریاست کے تمام اسکولوں اور کھلے میدانوں میں آم، امرود، نیم، پیپل، برگد، ساگون اور شیشم جیسے 5 لاکھ 37 ہزار 625 پھل دار اور سایہ دار درخت لگائے گئے ہیں۔ میٹنگ میں اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری ڈاکٹر سنجے گوئل نے کہا کہ محکمہ نے اسکولی بچوں کو اس مہم سے فعال طور پر جوڑا ہے۔ محکمہ بچوں کو ہر روز پودا لگا رہا ہے اور ان کی ماؤں کے ساتھ تصاویر کھینچ کر میری لائف پورٹل پر ریکارڈ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کے اجتماعی تعاون اور کوششوں سے محکمہ کی جانب سے روزانہ 50 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں۔ محکمہ آئندہ دو سے تین ماہ میں اپنا ہدف حاصل کر لے گا۔
محکمہ باغبانی نے 9.34 لاکھ سے زائد پودے لگائے
محکمہ باغبانی نے 4862 ہیکٹر رقبہ پر 21 لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ریاست بھر میں کھیتوں، ندیوں سے متصل علاقوں اور آبی ذخائر اور نالوں کے ارد گرد اب تک 9.34 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے جا چکے ہیں۔ ان میں مختلف پھلوں کے پودے جیسے آم، امرود، نارنگی، لیموں شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ پنچایت اور دیہی ترقیات نے ریاست میں 15 اگست سے 15 ستمبر تک مہم “ایک بگیہا ماں کے نام” شروع کرکے شجر کاری کے ہدف کو حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ محکمہ نے 15 جولائی سے گنگوتری گرین پروجیکٹ، ما نرمدا پرکرما پاتھ پر پودے لگانے کا آغاز کیا ہے۔ محکمہ ماحولیات نے ایکو کلب کے ذریعے اب تک تقریباً 37 ہزار اسکول کے احاطے میں 2 لاکھ 76 سے زائد پودے لگائے ہیں۔
جنگلات اور ماحولیات کے وزیر مملکت مسٹر دلیپ اہیروار، ایڈیشنل چیف سکریٹری جنگلات مسٹر اشوک برنوال، پرنسپل سکریٹری ماحولیات مسٹر نونیت موہن کوٹھاری، جنگلات کے پرنسپل چیف کنزرویٹر مسٹر اسیم شریواستو، کمشنر شہری ترقیات اور مکانات مسٹر سنکیت بھونڈوے، ڈائرکٹر کم کمشنر اور پنچای نیز دیہی ترقیات مسٹر چھوٹوتی سنگھ، کمشنرباغبانی محترمہ پریتی میتھل سمیت سینئر افسران میٹنگ میں موجود تھے۔









