نئی دہلی21جولائی: کانگریس صد اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ، آپریشن سندور اور امریکی صدر ٹرمپ کے ہندوستان و پاکستان کے درمیان ہوئی جنگ بندی سے متعلق بیانات پر ایوان میں تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔ کھڑگے نے ان معاملوں پر وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب بھی طلب کیا۔ 21 جولائی کو شروع ہوئے مانسون اجلاس کے دوران راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے کھڑگے نے ’ڑول 267‘ کے تحت بحث کا مطالبہ کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ انھوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ اور آپریشن سندور کے بعد کے حالات پر اصولوں کے مطابق ایوان میں نوٹس دیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ 22 اپریل کو ہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے والے دہشت گرد آج تک نہ تو پکڑے گئے ہیں، اور نہ ہی مارے گئے ہیں۔ انھوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے خود پہلگام میں خفیہ اور سیکورٹی خطا ہونے کی بات قبول کی تھی۔
ملکارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں یاد دلایا کہ ملک میں یکجہتی بنائے رکھنے اور فوج کو مضبوطی دینے کے لیے اپوزیشن نے بلا کسی شرط کے حکومت کو حمایت دی تھی۔ ایسے میں حکومت کو پورے حالات کے بارے میں جانکاری دینی چاہیے۔ کانگریس صدر نے آپریشن سندور معاملے پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف، ڈپٹی لیڈر چیف اور ایک سینئر فوجی افسر کے زریعہ کیے گئے انکشافات پر بھی مودی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ 24 بار دیے گئے ان بیانات پر بھی حکومت کا رخ واضھ کرنے کو کہا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تجارت نہ کرنے کی دھمکی دے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ انھوں نے اسے ملک کے لیے ہتک آمیز قرار دیا۔