نئی دہلی 19جولائی: گریٹر نوئیڈا کی شاردا یونیورسٹی میں اوڈیشہ کے بالاسور واقع فقیر موہن کالج جیسا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں بی ڈی ایس (سال دوم) کی ایک طالبہ نے مبینہ ذہنی اذیت کے باعث خودکشی کر لی۔ یہ سانحہ تعلیمی اداروں میں ذہنی دباؤ اور انتظامی غفلت پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ ہریانہ کے گڑگاؤں کی رہنے والی طالبہ نے جمعہ کے روز ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی لگا کر جان دے دی۔ خودکشی سے قبل اس نے ایک سوسائیڈ نوٹ چھوڑا، جس میں دو اساتذہ پر ذہنی اذیت، تضحیک اور مستقل دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے دونوں اساتذہ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ تین دیگر اساتذہ کی بھی جانچ جاری ہے۔ طالبہ کے سوسائیڈ نوٹ میں جن دو اساتذہ کا ذکر ہے، ان کے نام پروفیسر مہندر اور ڈاکٹر شریا (سوسائیڈ نوٹ میں ’شیرگ میم‘) ہیں۔ طالبہ نے لکھا، ’’اگر میری موت ہوتی ہے تو اس کے لیے پی سی پی اور ڈینٹل میٹیریل کے اساتذہ ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے مجھے بار بار ذہنی اذیت دی، میرا مذاق اڑایا اور مجھے احساس دلایا کہ میں ناکام ہوں۔‘‘ طالبہ کی خودکشی کی اطلاع ملتے ہی نالج پارک تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ فورینسک ٹیم نے کمرے کی جانچ کی اور شواہد اکھٹے کیے۔ پولیس نے والدین کی شکایت اور سوسائیڈ نوٹ کی بنیاد پر دو اساتذہ کے خلاف بھارتیہ نیائے سمہتا (بی این ایس) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ اور طالبہ کے اہلِ خانہ نے سخت احتجاج کیا۔ طلبہ نے یونیورسٹی کا مرکزی گیٹ بند کر دیا اور کارروائی نہ ہونے کی صورت میں بڑے احتجاج کی دھمکی دی۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ طالبہ طویل عرصے سے ذہنی دباؤ میں تھی لیکن بارہا شکایت کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ طالبہ کی والدہ نے بتایا کہ جمعہ کی صبح 8 بجے آخری بار بیٹی سے بات ہوئی تھی لیکن شام میں جب دوبارہ فون کیا گیا تو کوئی جواب نہیں ملا۔
اگلی صبح اطلاع ملی کہ بیٹی نے خودکشی کر لی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لاش کو پولیس کی موجودگی کے بغیر ہٹایا گیا اور جب اہلِ خانہ نے احتجاج کیا تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں کئی رشتہ دار زخمی ہوئے۔