بھوپال:19؍جولائی:وزیر خوراک، سول سپلائی اور صارفین تحفظ مسٹر گووند سنگھ راجپوت نے کہا ہے کہ عوامی تقسیمی نظام کے تحت مجاز ضرورت مندوںکو دیے جارہے اناج میں چاول کے بجائے گیہوں کی مقدار میں اضافہ کیاجائے۔وزیر خوراک مسٹر راجپوت نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں چاول کے بجائے گیہوںوافر مقدار میں استعمال ہوتا ہے۔ وقتاً فوقتاً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض تاجر ضرورت مندوں کو لالچ دے کر کم قیمت پر چاول خریدلیتے ہیں جس کی وجہ سے بازار میں غلط استعمال کے واقعات منظر عام پر آتے ہیں۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مدھیہ پردیش میں اہل استفادہ کنندگان کو دیے جانے والے اناج میں گیہوں کی مقدار کو بڑھانا فائدہ مند ہوگا۔ وزیر خوراک مسٹرراجپوت نے یہ تجویز نئی دہلی میں مرکزی وزیر صارفین معاملات ، خوراک اور عوامی تقسیم مسٹر پرہلاد جوشی سے ملاقات کے دوران دی۔
مرکزی وزیر خوراک مسٹرجوشی کو مدھیہ پردیش میں حصولیابی مراکز میں سہولیات توسیعف اور معیار کو بہتر بنانے کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں ڈی سینٹرلائزڈ حصولیابی اسکیم کے تحت معاون قیمت پر حصولیاب گیہوں میں سے کی اضافی مقدار حصولیابی کی مدت کے بعد گوداموں سے سی -موڈ میں فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کو فراہم کی جاتی ہے۔سال2021-22کیلئے 2.89 فی کوئنٹل لوڈنگ اور ہینڈلنگ کے اخراجات کی منظور نہیں کی گئی تھی۔ وزیر مسٹرراجپوت نے گزارش کی کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کے ذریعہ گوداموں سے اٹھائی گئی گندم کی لوڈنگ اور ہینڈلنگ کے اخراجات کی رقم ابھی تک منظور نہیں کی گئی ہے، جسے جلد جاری کیا جائے۔
وزیر خوراک مسٹرراجپوت نے مرکزی وزیر خوراک مسٹرجوشی کو بتایا کہ فوڈ سیکورٹی ایکٹ 2013 کے تحت 2020-21سے 2022-23تک کی مدت میں اہل خاندانوں میں تقسیم کیے گئے اناج کا ڈیٹا حکومت ہند کے انا وترن پورٹل پر دستیاب ہے۔ حکومت ہند کے سینٹرل ریپوزٹری پورٹل پر اس ڈیٹا کو اپ لوڈ کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ، انہوں نے 1500 کروڑ روپے کی گرانٹ کی رقم کی بقایہ ادائیگی جلد کرنے کی گزارش کی۔ اس پر مرکزی وزیر مسٹرجوشی نے افسران سے بات چیت کی اور وزیر خوراک مسٹرراجپوت کو یقین دلایا کہ ادائیگی جلد کر دی جائے گی۔ مسٹرراجپوت نے مرکزی وزیر خوراک سے گزارش کی ہے کہ خریف مارکیٹنگ سال 2014-15سے 2018-19تک معاون قیمت پر حصولیاب 2.95 لاکھ میٹرک ٹن موٹے اناج کی حصولیابی پلان کی منظوری دیئے جانے کی گزارش کی۔ حکومت ہند کی پالیسی کے مطابق، معاون قیمت پر حصولیاب موٹے اناج کو قومی غذائی تحفظ ایکٹ 2013 کے تحت مجاز خاندانوں کو گیہوں کے الاٹمنٹ کے بر خلاف تقسیم کیا جا چکا ہے۔ وزیر مسٹرراجپوت نے مرکزی وزیر کو واقف کروایا کہ حصولیابی پلان کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے تقسیم شدہ موٹے اناج پر سبسڈی کی رقم زیر التوا ہے جسے جلد ادا کیاجائے۔
مرکزی وزیر خوراک اور عوامی تقسیم مستر جوشی کے ساتھ ملاقات کے دوران، وزیرخوراک مسٹرراجپوت نے بتایا کہ 2013 سے معاون قیمت پر اناج کی حصولیابی کرنے والے کوآپریٹو اداروں کی جانب سے گیہوں اور دھان کی حصولیابی پر ،ملنے والے کمیشن میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے، جب کہ دیگر ریاستوں کو کمیشن مد میں زیادہ رقم ادا کی جا رہی ہے۔کمیٹیوں کو حصولیابی کے کام میں ہونے والے اخراجات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے بارے میںواقف کراتے ہوئے وزیر خوراک مسٹرراجپوت نے مرکزی حکومت سے گزارش کی کہ وہ حصولیابی پر کمیشن کی رقم 43 روپے فی کوئنٹل کی جائے۔
مرکزی وزیر خوراک مسٹرجوشی نے اس پر افسران سے بات چیت کے بعد جلد ہی رقم بڑھانے کا یقین دلایا۔ مسٹرراجپوت نے حصولیاب مراکز پر اناج کی بھرائی ،تلائی،چھاپااور لوڈنگ کے کام کیلئے گیہوں اور دھام پر 17.72روپے لیبر اخراجات کی ادائیگی میں 23روپے فی کوئنٹل بڑھائے جانے کی بھی گزارش کی۔









