نئی دہلی 14جولائی: اتر پردیش میں سرکاری اسکولوں کے انضمام کا عمل جاری ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت ایسے اسکولوں کو ایک دوسرے میں ضم کر رہی ہے جہاں 50 سے کم طلبا و طالبات تعلیم ھاصل کر رہے ہیں۔ اسکولوں کے انضمام سے متعلق ریاستی حکومت کے فیصلے کی ٹیچرس یونین مخالفت کر رہی ہے۔ اس تعلق سے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی آواز اٹھائی ہے۔ پرینکا گاندھی نے اتر پردیش میں سرکاری اسکولوں کے انضمام پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدم سے چھوٹے بچوں، خاص طور سے بچیوں کی تعلیم درمیان میں ہی چھوٹ جائے گی۔ دراصل اسکولوں کے انضمام سے چھوٹے بچے بشمول بچیاں کئی کلومیٹر پیدل چل کر دور دراز اسکول نہیں پہنچ پائیں گی۔ پرینکا گاندھی نے اس مسئلہ کو سامنے رکھتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت کا یہ حکم تعلیم کے حق کے خلاف تو ہے ہی، دلت، پسماندہ، قبائلی، اقلیت، غریب اور محروم طبقات کے بھی خلاف ہے۔‘‘ پرینکا گاندھی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یوپی حکومت انضمام کے نام پر تقریباً 5000 سرکاری اسکولوں کو بند کرنے جا رہی ہے۔ تعلیم سے وابستہ تنظیموں کے مطابق حکومت کی منشا تقریباً 27 ہزار اسکولوں کو بند کرنے کی ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’یو پی اے حکومت ملک میں ’تعلیم کا حق قانون‘ لائی تھی، جس کے تحر ہر گاؤں میں اسکول کا انتظام کیا گیا تھا، تاکہ غریب کنبہ کے بچوں کے لیے تعلیم آسان ہو سکے۔ اگر اسکول گھر سے دور ہوئے تو چھوٹے بچے، خصوصاً لڑکیاں کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول کیسے پہنچیں گی؟ ظاہر ہے کہ ان کی پڑھائی چھوٹ جائے گی۔ بچوں سے یہ حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟‘‘