بھوپال، 30 جون: وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو اور ان کی ٹیم کے آبی تحفظ اور ذخیرہ کرنے کے کاموں کی وجہ سے جل گنگا سنوردھن ابھیان کو عوامی تحریک بنتے دیکھنا خوشگوار تجربہ ہے۔ وزیراعظم مسٹر مودی نے مدھیہ پردیش کے لاکھوں لوگوں کی محنت، لگن اور ایمان کے ساتھ چلائے جانے والے جل گنگا سنوردھن ابھیان کے اختتام کے موقع پر بھیجے گئے اپنے پیغام میں، ریاست کے باشندگان، خاص طور پر ’ جل دوتوں‘(پانی کے سفیروں)، خود امداد ی گروپوں کی خواتین اور کسانوں کو نیک خواہشات دیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پانی کی ایک ایک بوند کو بچانے کے لیے 90 روز تک چلاجل گنگا سنوردھن ابھیان میں عوامی شراکت سے کیے گئے کاموں کو تاریخی قرار دیا اور ریاست کے باشندگان کا ان کے تعاون کے لیے شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم مسٹرمودی نے مدھیہ پردیش کے لاکھوں لوگوں کی محنت ، ایثاراور عقیدت سے نافذ ‘جل گنگا سنوردھن ابھیان’ کے اختتام کے موقع پر جاری اپنے پیغام میںیہ بات کہی۔ انہوں نے اس کامیابی پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو سمیت ریاست کے عوام کو بھی مبارکباد دی۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مسٹرنریندر مودی کی رہنمائی میں گڑی پڑوا سے شروع ہونے والا جل گنگا سنوردھن ابھیان پیر کو کھنڈوا میں سماروہ کی شکل پر اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران واٹر شیڈ کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سماروہ میں 1568 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور بھومی پوجن کیا۔ انہوں نے پنچایت اور دیہی ترقی کے تحت پنچایتوں میںہوئے 578 کروڑ روپے کے 57207 کاموں کا افتتاح بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کمپونٹ کے تحت پوری ریاست کے 888 آبی تحفظ کے کاموں کا افتتاح اور کھنڈوا ضلع کے جوار مائیکرو اریگیشن پروجیکٹ نیز3 دیگر آبپاشی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا۔ اس دوران ریاست کے 74 مرمت شدہ آبی ڈھانچوں کا بھی افتتاح کیا گیا۔ سماروہ میں وزیر اعظم مسٹر مودی کے ذریعہ بھیجا گیا پیغام وزیرپنچایت اور دیہی ترقیات مسٹر پرہلاد سنگھ پٹیل نے پڑھ کر سنایا۔
وزیر اعظم مسٹرمودی نے کہا کہ ہندوستان میں قدیم زمانے سے پانی کی پوجا کی جاتی رہی ہے اور ہماری تہذیب میں ندیوںکنوؤں، تالابوں اور بائوڑیوںکو قابل پوجا مان کر ان کے تحفظ کی روایت رہی ہے۔ اس وراثت کو ترقی دیتے ہوئے، ‘جل گنگا سموردھن ابھیان ندیوںکو صاف- شفاف، رواں -دواں اور بارہماسی بنانے کے لیے عوامی بیداری کی سمت میں ایک ترغیبی کوشش رہی ہے۔ عوامی شراکت کی طاقت سے متحرک یہ ایک بہترین مہم بن گئی جس میں مدھیہ پردیش کے قابل اور فطرت سے محبت کرنے والے ساٹھیوںکا تعاون قابل ستائش رہا ہے۔ آبی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچوں کی تعمیر میں کھنڈوا کی فراہمی لوگوں کو ترغیب دے گی۔
وزیر اعظم مسٹرمودی نے کہا کہ ماحولیات سے وابستگی اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور خوبصورت زمین کو یقینی بنانے کا ہمارا عزم عوام الناس کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہوپائے گا۔ اس سلسلے میں، ‘واٹرشیڈ کانفرنس کا انعقاد آبی تحفظ کے شعبے میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کے تجربات کو شیئر کرنے اور ہر سطح پر پانی کے انتظام کی حکمت عملیوں کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بنے گا۔ ‘ایک پیڑ ما کے نام پروگرام کے تحت ریاست میں تیس ہزار ایکڑ سے زیادہ اراضی پر پھلدار باغ تیار کرنے کی اسکیم ماتر شکتی، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ایک قابل ستائش اقدام ہے۔ یہ پروگرام ندی کے کناروں پر ہریالی بڑھانے اور زیر زمین آبی سطح کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مسٹرمودی نے مدھیہ پردیش کو ایک نہیں بلکہ تین قومی ندی جوڑو پروجیکٹوں کی سوغاتیں دی ہیں، جو مستقبل میں ملک اور ریاست میں آبی تحفظ اور افرزوردگی کے لیے ایک نئی سمت متعین کریں گی۔ انہوں نے وزیر اعظم مسٹرمودی کو موجودہ دور کا بھاگیرتھ بتایا۔ ان کی قیادت اور ویزن نے آبی تحفظ کو قومی بیداری میں بدل دیا ہے۔ وزیر اعظم مسٹرمودی کی رہنمائی میںگڑی پڑوا 30 مارچ سے 30 جون تک تمام اضلاع میںآبی ذرائع کے تحفظ کے لیے اختراعات کی گئیں۔ مہم میں، منریگا اسکیم کے تحت، کھیت تالاب، امرت سروور اور کنویں کے ریچارج پٹ کی تعمیر اور پانی کے ڈھانچے کی مرمت کی گئی۔ آبی ذرائع کے تحفظ میں2 لاکھ 39 ہزار جل دوتوں ( آبی سفیروں)کا تعاون ملا، وہ آبی تحفظ کے کارندے بنیں۔ مجموعی طور پر 38 ہزار نئے کھیت تالاب بنائے گئے ہیں۔ صرف کھنڈوا ضلع میں ہی 254 کروڑ کی لاگت سے 1 لاکھ سے زیادہ کنویں ری چارج کیے گئے۔ اس کے لیے کھنڈوا کو ملک میں پہلا مقام ملا ہے۔ آج اندور ڈویزن صفائی اورآ بی تحفظ میں پہلے نمبر پر ہے۔پوری ریاست میں 70 ہزار کنویں، بائوڑیوں،ندیوں اور تالابوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جل گنگا سموردھن ابھیان کے تحت 57 سے زیادہ ندیوں کو ملانے والے 140 بڑے نالوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ریاست کے 36 اضلاع میں 91 واٹر شیڈ پروجیکٹ تیار ہو چکے ہیں۔ کھیتوں کی آبپاشی کے لیے 9 ہزار واٹر اسٹرکچر تیار کیے گئے ہیں۔ آج 1568 کروڑ روپے کے افتتاح اور بھومی پوجن ہو چکے ہیں۔ کھنڈوا میں 4 آبپاشی پروجیکٹ شروع کیے گئے ہیں۔ مختلف کاموں کی وجہ سے نیماڑ کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 4 ڈگری کی کمی ہوئی ہے۔ ریاست میں آبپاشی کا رقبہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بندیل کھنڈ کو کین-بیٹوا لنک ریور لنک پروجیکٹ ، مالوا-چمبل خطہ کو پاروتی-کالیسند-چمبل (پی کے سی) اور نیمار کو تاپی میگا ریچارج پروجیکٹ کا فائدہ ملے گا۔ آنے والے برسوں میں ریاست کا آبپاشی کا رقبہ 55 لاکھ ہیکٹر سے بڑھا کر 100 لاکھ ہیکٹر کریںگے ۔









