کہا جاتا ہے کہ بچانے والا مارنے والے سے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے اور جو اپنی جان و مال کی قربانی دے کر کسی کی جان بچاتا ہے تو وہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتا ہے اور ظاہر ہے جو بڑا ہوگا وہ ہر اس طرح کے موقعوں پر یاد کیا جائے گا، لیکن ہمارے ملک بھارت میں معاملہ کچھ مختلف ہی نہیں ہے بلکہ برعکس ہے۔بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کو آج پوری دنیا جانتی ہے اور ان کا قاتل بھی اتنا ہی مشہور ہے جتنا کہ خود مہاتما گاندھی جی۔ ان کے قاتل کا نام بھی پوری دنیا کو معلوم ہے۔لیکن ایک ایسی شخصیت جنہوںنے اپنی جان کی بازی لگا کر، اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر، بلاکسی خوف و تردد کے گاندھی جی کی جان بچائی آج کوئی ان کا نام تک نہیں جانتا ۔آج وہ شخصیت گم نام ہوگئی ہے۔وہ عظیم شخصیت ہیں بخت میاں انصاری (عرف بطخ میاں انصاری)۔
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ کس طرح بخت میاں انصاری نے گاندھی جی کی جان بچائی،انگریز افسر نے گاندھی جی کو کھانے پر مدعو کیا اور اپنے باورچی بخت میاں سے زہر آلود دودھ گاندھی جی کو پیش کرنے کے لئے کہا ،لیکن بخت میاں نے اس کی سازش کو بے نقاب کر دیا اور اس طرح گاندھی جی کی جان بچ گئی۔ اگر اُس دن بخت میاں نے ڈر اور خوف کی وجہ سے زہر دے دیا ہوتا تو ہمارے ملک کی آزادی کتنی مشکل ہو جاتی اس کا اندازہ ہم اور آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔بخت میاں انصاری کو اس جرأت و ہمت کی پاداش میں انگریزوں کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔نیز انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل ہی نہیں کیا گیا بلکہ جیل کی کوٹھری میں ڈال دیا گیا اور جیل میں ان کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا جو اس زمانے کے تمام مجاہدین آزادی کے ساتھ ہوتا تھا۔
بخت میاں کے پوتے چراغ انصاری اور کلام انصاری اور دیگر خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ہمارے دادا جان نے گاندھی جی کو تو بچا لیا لیکن اس کی پاداش میں انہیں صعوبتیں برداشت کرنا پڑی۔حب الوطنی کے اس عمل کی انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔انہوںنے مزید کہا کہ حکومت ہند اپنے خود کے صدر جمہوریہ ہند کے حکم کو بھول گئی۔اور بخت میاں انصاری کے خاندان کے لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ہر طرح کی مروعات سے محروم ہیں۔ کئی سرکاریں آئیں اور گئیں سب نے وعدہ کیا کہ انصاف ہوگا مگر آج تک نہ تو بخت میاں انصاری کو اور نہ ہی ان کے خاندان والوں کو ہی انصاف ملا۔
سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد سے لے کر آج تک کتنے صدر جمہوریہ آئے اور اسی طرح سے کئی قومی سرکاریں آئیں اور صوبے کی کانگریس سے لے کر لالو یاد جی کی سرکار، نتیش جی کی سرکار سبھی نے وعدہ کیا پھر وعدہ خلافی کی۔انصاف کو لیک کر صوبہ کی اسمبلی میں کئی بار سوال جواب ہوئے مگر آج تک انصاف نہیں ہوا اور نہ ملا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بخت میاں انصاری کے اس کارنامہ سے خوش ہوکر آزاد ہندوستان کے پہلے صدر جمہوریہ راجندر پرساد نے بخت میاں کے خاندان والوں کو ۳۵؍بیگھہ زمین دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جو آج تک ان کے خاندان والوں کو نہیں مل پائی ہے۔اسلئے کہ وہ ایک غریب کسان تھے۔اب ان کے خاندان کو کوئی پرسان حال نہیں ہے۔یہی حال اگر کسی اعلیٰ ذات جس کا تعلق بر سر اقتدار پارٹی سے ہو یا امیر ، نواب یا رسوخ دار کے خاندان کا ہوتا تو اب تک انہیں وہ زمین مل گئی ہوتی جس کا وعدہ خود صدر جمہوریہ نے کیا تھا۔
آج قومی سرکار ہو یا صوبائی سرکار، بے توجہی کی سبھی حدیں پار کر گئی ہیں ،اس کی کیا وجہ ہے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نام پر بنی لائبریری، ان کا مقبرہ، ان کے نام کا گیٹ وغیرہ سب کچھ بے توجہی کا شکار ہے۔آج بی جے پی کی قومی سرکار ہے جو پسماندہ سماج کی فلاح و بہبود کی بات کر رہی ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کی بات کر رہی ہے ۔ نتیش جی اور تیجسوی جی بھی سیاسی طور پر متحرک رہتے ہیں نیز اس سے قبل بھی مقامی ایم ایل اے نے ودھان سبھا میں یہ مدعا اُٹھایا تھا ۔اس سب کے باوجود آج تک انصاف نہیں ملا؟ سوال یہ ہے کہ انصاف کی کرن کب طلوع ہوگی؟بھارت میں پسماندہ طبقات کو انصاف ملے گا بھی یا صرف جملہ بازی ہوگی؟
یہ محض افسوس کی بات نہیں بلکہ ایک سنگین تاریخی ناانصافی ہے کہ بخت میاں انصاری جیسے سچے محب وطن، جنہوں نے مہاتما گاندھی کی جان بچانے کا عظیم کارنامہ انجام دیا، اُنہیں آج تک ان کا قانونی اور اخلاقی حق نہیں دیا گیا۔ 1950 میں ملک کے صدر جمہوریہ نے 35 بیگھہ زمین دینے کا وعدہ کیا، مگر وہ وعدہ آج تک فائلوں، اعلانات اور تقریروں کی قبر میں دفن ہے۔ اس دوران ملک میں درجنوں حکومتیں بدل گئیں، وزرائے اعلیٰ، وزرائے اعظم، وزرائے داخلہ، سب بدلتے رہے، مگر بطخ میاں کے حق میں انصاف کی لڑائی لڑنے والا کوئی مرد مجاہد پیدا نہیں ہوا۔یہی نہیں ۱۹۵۰؍ کے صدارتی حکم کے خلاف جو آئینی تفریق کرتا ہے، منظم طریقے سے لڑائی ہی نہیں لڑی گئی۔
اس سے بڑھ کر قابلِ افسوس پہلو پسماندہ طبقات کی نمائندگی کا سب سے زیادہ دعویٰ کرنے والے خود پسماندہ لیڈران کی خاموشی ہے۔ جنہوں نے ہمیشہ اپنی سیاست کو پسماندگی کے نام پر چمکایا، مگر جب بات ایک سچے پسماندہ مجاہد کے حق کی آئی تو سب کے ہونٹ سلے رہے۔ یہ کیسی نمائندگی ہے جو صرف الیکشن کے وقت ووٹ مانگنے آتی ہے، مگر اس کے بعد نہ ان کے درد کی پرواہ ہے نہ ان کے مسائل کی؟ آج بہار سمیت پورے ملک میں درجنوں پسماندہ تنظیمیں موجود ہیں — ہر سال جلسے، بینر، پوسٹر، اور سیمینار منعقد ہوتے ہیں — مگر سوال یہ ہے کہ بخت میاں انصاری جنہیں فراموش کر دیاگیا ان کے لیے ان پسماندہ تنظیموں نے کیا عملی قدم اٹھایا؟ کیا یہ تمام تنظیمیں صرف اپنے لیڈران کی تصویریں چھپوانے کے لیے بنائی گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے صرف دکھاوا ہیں؟ صرف نعروں، قراردادوں اور رسمی دعووں کا نام ہیں؟
خاص طور پر چمپارن، موتیہاری اور اطراف کے وہ پسماندہ قائدین جو خود کو قوم کا رہبر کہتے ہیں، اُن سے دو ٹوک سوال کیا جانا چاہیے کہ آخر وہ کس کام کے رہنما ہیں اگر وہ اپنے علاقے کے ایک ہیرو کے حق کی آواز بلند کرنے کی بھی ہمت نہیں رکھتے؟ یہ خاموشی صرف بے حسی نہیں بلکہ ایک اجتماعی خیانت ہے، جس کا بوجھ آنے والی نسلیں اُن سے ضرور حساب لیں گی اسلئے آج ہم سب کو اپنا سب کچھ نچھاور کرکے بخت میاں عرف بطخ میاں انصاری کو ان کے خاندان کو انصاف دلانے کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی ،اسی طرح ۱۹۵۰؍ کے صدارتی حکم کو ختم کرنے کا عزم کرنا ہوگا جو ہمارے پسماندہ طبقے (رذیل/ارذال) کے ساتھ سالوں سال سے نا انصافی کا باعث بنا ہوا ہے۔