زندگی میں صحت ایک ایسی چیزہے جس کے بغیر انسان کی زندگی بے مزہ ہے۔اگر صحت نہ ہو تو آدمی دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔صحت قدرت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اسی مناسبت سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 11 دسمبر 2014ء کو ہر سال 21 جون کا دن ’یوم یوگا‘ منانے کا فیصلہ کیاتھا ۔
یوگا بھارت کا ایک بہت ہی قدیم طریقہ ورزش ہے جس کی جڑیں بھارتیتا میں رچی بسی ہیں ،اس کا سبھی دھرم ذات کے رشی منی، صوفی ، فقیروں سے جڑائو ہے۔سبھی اپنے اپنے حساب اور سہولت سے جسمانی ورزش کرتے ہیں ۔اب چونکہ زمانہ بہت فاسٹ ہو گیا ہے لوگوں کو ورزش کا وقت بھی کم ملتا ہے تو ایسے میں اس کی افادیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس کا تعلق کسی خاص دھرم یا مذہب سے نہیں ہے اور اس کو کسی مخصوص دھرم و مذہب سے جوڑنا غلط ہے
قدرت نے ہر انسان کو صحیح سالم بنایا ہے۔بس احتیاطی تدابیر سے انسان اپنی صحت کا خیال رکھ سکتا ہے۔ لیکن ہمارا مزاج ایسا بن چکا ہے کہ بیماریوں کے باوجود ہم اپنی عادات میں تبدیلی نہیں لاتے، جس کی وجہ سے مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ہر قسم کی خطرناک اور جان لیوا بیماری کو بھی معمولی اور عارضی سمجھ کر اس سے چھٹکارا پانے کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کرتے۔
اگر دیکھا جائے تو بیماری کی ایک بڑی وجہ ورزش نہ کرنا ہے۔ انسان دن بھر کھانے پینے اور دیگر چیزوں میں لگا رہتاہے ۔جس کی وجہ سے وہ مکمل ورزش نہیں کر پاتا ۔نہ صبح سویرے واکنگ (دوڑنا)ہو پاتی ہے، نہ انسان دیگر ورزش یعنی یوگا وغیرہ کر پاتا ہے۔حالانکہ ورزش کے بہت سے فوائد ہیں اور صحت مند طرز زندگی سے ہم بیماریوں سے نجات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں غفلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت ہماری ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔ لیکن اب صحت ہماری ترجیحات میں شامل ہو گئی ہے۔ یوگا(ورزش) کی طرح اب لوگوں کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے یہ ڈھیر ساری بیماریوں اور دوائوں سے بچنے کے لئے سب سے اچھا اور سستا راستہ ہے۔ ڈاکٹر بھی مشورہ دیتے ہیں کہ روزانہ ورزش کرنابہتر صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اسی وجہ سے جسمانی ضرورت کے مطابق خاص طور پر عمر دراز لوگوں کو یوگاکرنا چاہئے۔ورزش کو زندگی کا معمول بنانا چاہئے۔
حال ہی میں کئی ایک ریسرچ ہوئے ہیں جس میں یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پانچوں وقت کی نماز پڑھنا پروردگار کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔ نماز ایک عبادت ہے اپنے خالق مالک کے سامنے جھکنا اور حسب معمول روزانہ یاد کرناہے۔ جو ایک (Divine Act) بہت ہی مقدس عبادت ہے۔ وہیں دوسری طرف نماز ایک بہترین جسمانی ورزش بھی ہے۔ روزانہ پانچ وقت نماز میں یہ ورزش پوشیدہ ہے، نماز میں مختلف ہیئت و کیفیت اندازِ نشست (Different Positions) اور خاص کرکے سجدہ و روکوع وغیرہ یوگ کی ترجمانی کرتے ہیں۔ نیز صبح کی نماز (فجر) بہت بڑی عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ورزش (یوگا) بھی ہے۔ ریسرچ کے مطابق صحت کے لئے بہت ہی فائدہ مند ہے۔ سچے اور پکے نمازی بہت ہی ہنس مکھ، ملنسار ، سماجی خدمتگار ہوتے ہیں۔اس زمانے میں لوگوںکو نئی نئی بیماریاںلاحق ہو جاتی ہیں مثلاً ذیا بیٹس، بلڈ پریشر اور ڈپریشن ،ان مریضوں کے لیے ورزش ایک اہم دوا کا کردار ادا کرتی ہے۔لہٰذا آج کے زمانے میں دنیا کے تمام ماہرین صحت اور ماہرین خوراک کا کہنا ہے کہ اچھی سے اچھی خوراک اور طاقت کی دو اواکنگ، یوگا یا ور ازش کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ورزش انسانی جسم کے تمام اعضاء خصوصا دل و دماغ پر حیرت انگیز مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔یوگا خاص کرکے عمر دراز لوگوں کے لئے انتہائی مفید ہے جبکہ صحیح طریقے کے مطابق کیا جائے۔
یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ محض ایک دن یوگا یا پھر ورزش کرنا اصل نہیں ہے،بلکہ یوگا/ورزش کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کیا جانا چاہئے۔واضح رہے کہ یوگا اور ورزش کا تعلق کسی خاص مذہب یا دھرم سے نہیں ہے بلکہ منووادی پونجی وادی عناصر نے اسے غلط رنگ دے دیا ہے ورنہ تو آیوروید ہو، الیوپیتھی ہو طب ہو کوئی بھی ہو سب نے ورزش کو انسانی زندگی کا لازمی جزء قرار دیا ہے،یہ الگ بات ہے کہ ورزش کرتے ہوئے انسان اپنے ڈھنگ اور طریقے سے اپنے مالک کو یاد کرتا ہے اس کا طریقہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اس کے الفاظ کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن اصل میں تو یہ ایک محض ایک ورزش ہے اور اسے کسی مخصوص مذہب کا رنگ دینا بالکل غلط ہے۔ یہ بھارت کا ہے اور ہم سب کا ہے۔
آئیے ! اِس یومِ یوگا پر ہم سب اس بات کا عہد کریں کہ اپنے مشغول ترین اوقات میںسے ورزش کے لئے ضرور وقت نکالیںگے اور اپنے جسم کو صحت مند بنانے کی بھرپور کوشش کریںگے ۔اس لئے کہ ایک صحت مند انسان ہی سماج کے کام آسکتا ہے۔قوم و ملت کی خدمت کر سکتا ہے۔ اچھی صحت لازوال دولت ہے اور اس کے بعد کوئی دولت ہے تو وہ ہے علم۔ علم یعنی اعلیٰ تعلیم۔