بھوپال، 21 فروری (یو این آئی) مدھیہ پردیش کانگریس نے راجدھانی بھوپال میں اگلے ہفتے ہونے والی گلوبل انویسٹرس سمٹ (جی آئی ایس) سے قبل حکومت پر سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی اور دکھاوے کا الزام لگایا ہے۔پارٹی کے ریاستی صدر جیتو پٹواری اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار نے آج نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت سے کانفرنسوں کا حساب لینے کا مطالبہ کیا۔دونوں لیڈروں نے الزام لگایا کہ حکومت کروڑوں روپے خرچ کر کے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو یرغمال بنانے کی تیاری کر رہی ہے، جس طرح گزشتہ 6 بار ہوا، اس بار بھی گلوبل انویسٹرز سمٹ کے نام پر سرکاری خزانے کو خالی کیا جا رہا ہے۔ ہر ماہ 5000 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض لینے والی حکومت گلوبل انوسٹرس سمٹ پر پانی کی طرح پیسہ خرچ کر رہی ہے، لیکن اگر ہم 2003 سے اب تک کی پچھلی 6 گلوبل انویسٹرس سمٹ کے ریکارڈ پر نظر ڈالیں تو زمینی سطح پر معاملہ صفر دکھائی دیتا ہے اور حکومت کے پاس اس کا کوئی حساب بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2003 سے 2016 تک پانچ سرمایہ کاروں کے اجلاسوں میں 17 لاکھ 50 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تجاویز کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اندور میں ہونے والی گلوبل انویسٹرس سمٹ 2023 میں حکومت نے ریاست میں تقریباً 15 لاکھ 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا تھا، یعنی مدھیہ پردیش کی سرزمین پر تقریباً 32 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا تھا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 2003 سے 2023 تک صرف 4 لاکھ 5 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا گیا جبکہ زمین پر 3 لاکھ 47 ہزار کروڑ روپے نکلے۔