پٹنہ 29مارچ: بہار بورڈ دسویں جماعت کے امتحان میں اس سال شاندار کارکردگی دیکھنے کو ملی ہے۔ خاص بات یہ رہی کہ اس بار ٹاپ کرنے والوں میں طالبات نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ویشالی ضلع کی سبرین پروین نے پوری ریاست میں پہلا مقام حاصل کر کے اپنے خاندان، گاؤں اور ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ وہ سِمولتلا آواسیہ ودیالیہ کی طالبہ پُشپانجلی کماری کے ساتھ مشترکہ طور پر ٹاپر بنی ہیں۔ دونوں نے 492 نمبر حاصل کر کے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ سبرین پروین ویشالی ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 45 کلومیٹر دور چہرہ کلاں بلاک کے ایک چھوٹے سے گاؤں چھوڑاہی کی رہنے والی ہیں۔ ان کا خاندان ایک معمولی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے والد محمد شہزاد عالم مغربی بنگال کے رام پور ہاٹ میں ٹائر کی دکان چلاتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ انگوری خاتون گھریلو خاتون ہیں۔ محدود وسائل کے باوجود خاندان نے ہمیشہ تعلیم کو ترجیح دی، جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی سبرین بچپن سے ہی پڑھائی میں ذہین رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی کے لیے بڑے شہر یا مہنگے اسکول ضروری نہیں ہوتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتی تھیں، لیکن ساتویں جماعت سے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ آٹھویں اور نویں کی تعلیم بھی انہوں نے سرکاری اسکول سے ہی مکمل کی۔نتیجہ آنے کے بعد سبرین نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے رزلٹ سے بہت اطمینان ہے اور گھر میں بھی خوشی کا ماحول ہے۔









