نئی دہلی9اکتوبر: عالمی توانائی مارکیٹ میں ہندوستان نے ایسی حکمت عملی اختیار کی ہے کہ محض ایک ماہ کے اندر درآمدات کے اعداد و شمار یکسر بدل گئے۔ اس تبدیلی نے ہندوستان کے باورچی خانوں سے لے کر امریکہ تک ہلچل مچا دی ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اب ہندوستان کو ایل پی جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک ماہ کے اندر دوسرا بڑا معاشی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ہندوستان کی توانائی درآمدات میں نمایاں مقام رکھنے والا امریکہ اب دو اہم محاذوں پر پیچھے رہ گیا ہے۔ ستمبر میں ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات کے تناسب میں ہونے والی یہ بڑی تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک ایک بار پھر اپنی سابقہ پوزیشن بحال کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی تجارت میں امریکہ کا غلبہ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بحری نقل و حمل سے متعلق انٹیلی جنس فراہم کرنے والی کمپنی ’کیپلر‘ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، خلیجی ممالک سے ہندوستان آنے والی ایل پی جی کی سپلائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکہ سے ہونے والی سپلائی میں بھاری کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ تبدیلی محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاست، آبنائے ہرمز کا بحران اور ہندوستان کی توانائی سلامتی سے متعلق اہم حکمت عملی کارفرما ہے۔ ایل پی جی کے ساتھ ساتھ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی مارکیٹ میں بھی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں عمان نے امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔









