بھوپال، 09 اکتوبر: مدھیہ پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ جگدیش دیوڑا نے شراب کے ٹھیکوں میں مبینہ بدعنوانی اور 1 کروڑ روپے رشوت لینے کے سنگین الزامات کی زد میں آنے کے بعد اپنے او ایس ڈی (OSD) دیپم رائے چورا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ یہ الزامات سال 2024-25 کے ہیں جب رائے چورا بھوپال میں اسسٹنٹ ایکسائز کمشنر کے طور پر تعینات تھے اور اس وقت وہ ان کے عملے کا حصہ نہیں تھے۔ انہوں نے اخبارات میں خبریں سامنے آنے کے بعد متعلقہ دور کے شراب ٹھیکوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی باقاعدہ جانچ کی ہدایت جاری کر دی ہے۔دوسری جانب، نائٹ کلب، ریستوراں اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں تقریباً 930 کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام میں پنجاب کی جیل میں قید ملزم موہت گوگیا کا ایک مبینہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ اس بیان میں گوگیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2024-25 کے دوران ٹی ٹی نگر کی دو شراب کی دکانوں کے ٹھیکے دلوانے اور بغیر لائسنس شراب فروخت کرانے کے عوض رائے چورا کو 1 کروڑ روپے دیے گئے، جس میں سے 50 لاکھ روپے نقد اور باقی 50 لاکھ روپے ایک ہوٹل کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، نیز جعلی ایف ڈی آر منظور کرانے میں بھی مدد لی گئی۔ ادھر دیپم رائے چورا نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں کسی بھی تفتیشی ایجنسی سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اور ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔