پوٹشفسٹروم، 3 ستمبر (یواین آئی) جنوبی افریقہ اے کے خلاف ریکارڈ ساز ناٹ آوٹ 350 رنز کی اننگز کھیلنے والے بنگلہ دیشی بلے باز توحید ہردوئے نے ریڈ بال کرکٹ میں اپنی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے قومی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات کو مضبوط کردیا ہے۔پوٹشفسٹروم کا میدان توحید ہردوئے کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انہوں نے 2020 میں اسی مقام پر آئی سی سی انڈر-19 ورلڈ کپ جیتنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ تاہم جنوبی افریقہ اے کے خلاف سیریز سے قبل وہ طویل فارمیٹ میں خود کو نمایاں کرنے کے بارے میں زیادہ پُرجوش نہیں تھے۔
کئی کھلاڑیوں کے زخمی ہونے اور بعض کے ویزا مسائل کے باعث توحید ہردوئے کو نورالحسن، ریشاد حسین اور محمد سیف الدین کے ساتھ بنگلہ دیش اے ٹیم میں شامل کرکے جنوبی افریقہ بھیجا گیا تھا۔ ڈھاکہ سے روانگی کے وقت چار روزہ میچ کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ان کی توجہ جنوبی افریقہ کے حالات سے ہم آہنگ ہونے اور آئندہ وائٹ بال سیریز اور ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاری پر ہے۔
توحید کو وائٹ بال کرکٹ میں ڈیبیو کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے تین سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑا تھا۔ تاہم زمبابوے کے خلاف ہرارے میں دوسرے ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد صرف ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کے بعد ہی انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے قدرے جلدی منتخب کیا گیا، جبکہ کچھ نے ان کی تکنیک کو وائٹ بال کرکٹ کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا تھا۔
جنوبی افریقہ اے کے خلاف 350 رنز بنا کر توحید ہردوئے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے صرف تیسرے بنگلہ دیشی بلے باز بن گئے۔ انہوں نے تمیم اقبال کے ناٹ آوٹ 334 اور رقیب الحسن کے ناٹ آوٹ 313 رنز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کسی بنگلہ دیشی بلے باز کا فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور بھی اپنے نام کرلیا۔
اپنی ریکارڈ ساز اننگز کے بعد ریڈ بال کرکٹ میں مستقبل کے بارے میں پوچھے جانے پر توحید نے کہا کہ قومی ٹیم میں کتنے میچ کھیلنے ہیں، اس کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ سلیکٹرز پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ اپنی کارکردگی سے اسے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔
توحید ہردوئے کی یہ شاندار اننگز بنگلہ دیش کی آئندہ ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم منتخب کرتے وقت سلیکٹرز کے لیے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگی۔ تاہم ان کے لیے اصل چیلنج صرف ٹیم میں جگہ بنانا نہیں بلکہ مسلسل مواقع حاصل کرنا بھی ہوگا، تاکہ وہ ریڈ بال کرکٹ میں اپنی صلاحیت ثابت کرسکیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ توحید اپنے ٹیسٹ مستقبل کے بارے میں زیادہ فکرمند دکھائی نہیں دیے اور شاید یہی بے فکری ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی۔ توقعات کے دباؤ سے آزاد ہوکر انہوں نے جنوبی افریقہ اے کے خلاف کھل کر بیٹنگ کی اور 350 رنز کی تاریخی اننگز کے ذریعے ریڈ بال کرکٹ میں اپنی صلاحیت کا بھرپور اظہار کیا۔









