لندن، 3 ستمبر (یواین آئی): پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے پاکستانی ٹیم پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکست پر تنقید ہر کسی کا حق ہے، تاہم کھلاڑیوں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک نجی چینل کو انٹرویو میں محسن نقوی نے کہا کہ نئے کوچنگ اسٹاف کی آمد کے بعد پاکستان کی ون ڈے رینکنگ آٹھویں سے پانچویں اور ٹی20 میں نویں سے چھٹی پوزیشن تک پہنچی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چھ ون ڈے سیریز میں سے چار میں کامیابی حاصل کی، جبکہ ٹیم کا مجموعی جیت کا تناسب بھی 24 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہوا ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی کارکردگی انتہائی خراب رہی ہے، تاہم اس کے پیچھے کئی دیگر وجوہات بھی ہیں جنہیں فی الحال منظر عام پر نہیں لایا جاسکتا۔محسن نقوی نے کہا کہ ٹیم میں بہتری کے لیے مزید وقت درکار ہے اور یہ توقع رکھنا درست نہیں کہ چند ماہ میں نویں یا چھٹی پوزیشن سے ٹیم عالمی نمبر ایک بن جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ان سے اختلاف یا شکایت ہے تو وہ ان پر تنقید کرے، لیکن پاکستانی کرکٹ کو اس کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں اور کھلاڑیوں کی تذلیل قبول نہیں کریں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں ٹیم کے اسکواڈ میں کی گئی بڑی تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں ضروری قرار دیا ہے۔پاکستان نے 9 ستمبر سے شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا ہے۔ یہ فیصلہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں بھاری شکستوں کے بعد کیا گیا۔پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں اننگز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ دوسرے میچ میں انگلینڈ نے اسے 194 رنز سے ہرا کر سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسکواڈ میں تبدیلیاں ناگزیر تھیں اور ان کا مقصد ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔