واشنگٹن، 19 جولائی (یو این آئی): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر واضح کیا کہ موجودہ تنازع کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ایران کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت نامہ کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد روکنے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیوز نیشن کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس فیصلے کی “بالکل بھی پروا نہیں”۔ یہ ردعمل ایران کے نائب وزیر خارجہ جناب کاظم غریب آبادی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے اسلام آباد مفاہمت نامہ کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر عمل درآمد مکمل طور پر روک دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق جناب غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران نے بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے اور فی الحال اس پر عمل نہیں کیا جا رہا، کیونکہ ملک کی اولین ترجیح اپنا دفاع ہے۔ یاد رہے کہ یہ مفاہمت نامہ 17 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر جناب مسعود پزشکیان کے درمیان دستخط کے ذریعے طے پایا تھا، جس کا مقصد 28 فروری کو ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ کرنا تھا۔ معاہدے کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کیے جانے تھے۔ تاہم یہ عارضی مفاہمت نامہ 7 جولائی کو اس وقت عملی طور پر ختم ہو گیا جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے۔ بعد ازاں ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنا بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کر دیا۔