کولکاتا19جولائی: کلکتہ ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے آمتلا پارٹی آفس کو منہدم کرنے پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگلے حکم تک کوئی مزید کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ یہ حکم کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس راجہ بسو چودھری نے جاری کیا۔ ابھشیک بنرجی نے ہفتے کے روز آمتلا پارٹی آفس بلڈوزر معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد ان کے وکیل نے اتوار کو چھٹی کے دن اس معاملے پر فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ پہلے سماعت آج دوپہر 12 بجے شروع ہونی تھی، لیکن سرکاری وکیل کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے سماعت وقت پر نہ ہو سکی۔ بعد میں دوپہر 1:30 بجے جسٹس راجہ بسو چودھری کے کورٹ روم میں سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔ اس کے بعد عدالت نے ابھیشیک بنرجی کے آفس کو منہدم کرنے پر کچھ وقت کے لیے روک لگا دی۔ دوسری جانب بار بار یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ آمتلا میں ابھشیک بنرجی کا پارٹی آفس غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا ہے۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی سے قبل سشانت منڈل نامی شخص نے ڈسٹرکٹ کونسل میں شکایت کی تھی۔ الزام ہے کہ یہ 5 منزلہ عمارت بغیر کسی منظور شدہ نقشے کے بنائی گئی تھی۔ ان کی شکایت کی بنیاد پر 30 جون کو جنوبی 24 پرگنہ ایڈمنسٹریشن نے ابھیشیک بنرجی کے والد اور ’لیپس اینڈ باؤنڈز‘ کے ڈائریکٹر امت بنرجی کو نوٹس بھیجا۔ یہ پراپرٹی بھی ’لیپس اینڈ باؤنڈز‘ کے نام پر ہے۔ سشانت منڈل اور مطیع الرحمٰن ملک کو بھی نوٹس بھیجا گیا تھا۔ تمام شکایت کنندگان اور ملزم فریق کو 15 جولائی کو دوپہر 2 بجے پیش ہونے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن نوٹس میں بتائے گئے طریقے کے مطابق امت بنرجی پیش نہیں ہوئے۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے امت بنرجی کو ایک اور نوٹس دیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ آفس کو منہدم کیا جائے گا۔ اسی طرح ہفتے کی صبح سے ابھیشیک بنرجی کے 5 منزلہ دفتر کو بلڈوزر سے گرانے کا کام شروع ہو گیا۔ پھاؤڑے سے ڈیجیٹل لاکر کو توڑا گیا۔ اتوار کی صبح، بلڈوزر پھر سے ابھیشیک کے دفتر پہنچا۔ ایک ایک کر کے چارپائی، تکیے اور امدادی سامان باہر نکالے گئے۔









