واشنگٹن، 11 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جسے انہوں نے عالمی برادری کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کا سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا جانا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹا رہا ہے اور یہ اقدام دنیا کے لیے ایک بڑا احسان ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی سمیت کئی ممالک کے مفاد میں کی جا رہی ہے، جو اس نوعیت کا کام خود انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں سمندر کی تہہ میں جا چکی ہیں، جبکہ ایران کی فضائی اور بحری صلاحیتیں بھی بڑی حد تک ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے بیشتر میزائل اور ڈرون بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔ قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کے بعد ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بے ترتیب انداز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھائیں۔ امریکی حکام کے مطابق ایران ان بارودی سرنگوں کے درست مقامات کا مکمل ریکارڈ محفوظ نہیں رکھ سکا، جبکہ سمندری لہروں کے باعث کچھ مائنز اپنی جگہ سے سرک یا بہہ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایران ان سرنگوں کا مکمل سراغ لگانے میں ناکام ہے اور انہیں فوری طور پر ہٹانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمینی بارودی سرنگوں کے مقابلے میں بحری سرنگوں کی تنصیب اور انہیں ہٹانا زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔
جس کے لیے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے پر جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔









