بھوپال، 6 ستمبر: مجلسِ اقبال کے زیرِ اہتمام ایم ایچ کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں معروف افسانہ نگار افشاں ملک کے اعزاز میں ایک پُروقار افسانوی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ ذی وقار اور مجلسِ اقبال کے صدر اقبال مسعود نے اپنے صدارتی کلمات میں افشاں ملک کے فن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے افسانے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قاری کو اپنی ذات، رشتوں اور معاشرے سے گہرا تعلق محسوس کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ انہوں نے نسوانی تعصبات سے بالاتر ہو کر خواتین کے جذبات، ذمہ داریوں اور دو نسلوں کے فکری تصادم کو جس تعمیری اور متوازن انداز میں پیش کیا ہے وہ اردو فکشن میں ایک کارنامہ ہے۔
صدارتی خطاب فرماتے ہوئے رئیسہ ملک نے محفل میں پیش کیے گئے افسانوں کا تفصیلی تجزیہ کیا اور اہل بھوپال کی ادب نوازی، مہمان نوازی اور علمی روایات کو سراہا۔ اس موقع پر افشاں ملک نے اہل بھوپال کے خلوص کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس شہر سے میکے جیسی انسیت اور محبت ہے؛ ساتھ ہی انہوں نے مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور اس کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے شہرِ اقبال میں ان کی آمد ممکن ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنے دو دلکش افسانے ”آخری خط“ اور ”امی، میں اور موبائل“ ڈرامائی انداز میں پیش کیے، جن کی سلاست، شگفتگی اور موضوعاتی گہرائی نے حاضرین سے بھرپور داد و تحسین حاصل کی۔
نشست کے افسانوی دور میں صوفیہ خان، جمال ناصر، عاصم حسین فاروقی اور عبد السعید خاں شہنشاہ نے اپنے منتخب اور معیاری افسانے پیش کر کے محفل کو پررونق بنایا۔
اس کے علاوہ ملیگاوں سے نخشب ،مراداباد سے ضیا ضمیر نے افسانے بھیجے تھی جنہیں ڈاکٹر نعمانی نے پڑھ کر سنایا۔ تقریب کی نظامت محمود ملک نے اپنی شگفتہ بیانی سے بحسن و خوبی انجام دی، جبکہ ڈاکٹر آصف سعید نے تمام شرکا اور مہمانوں کا باضابطہ شکریہ ادا کیا۔ اس ادبی محفل میں سیف ملک، رضوان الدین فاروقی، رمان الدین فاروقی، سرور حبیب اور ڈاکٹر جاوید نعمانی سمیت کثیر تعداد میں شائقینِ ادب اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔









