ساگر، 6 ستمبر: مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں زہریلی اور نقلی شراب پینے سے دو روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 11 ہو گئی ہے، جن میں سے تین افراد نے ہفتہ کی دیر رات دم توڑ دیا۔ اس سانحے میں زہر کی شدت اس قدر خطرناک تھی کہ متعدد متاثرین کے جسم نیلے پڑ گئے اور ان میں شدید اینٹھن دیکھی گئی، فی الوقت 25 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 17 ساگر ضلع اسپتال، 7 بندا سول اسپتال جبکہ تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ایک مریض کو خصوصی طور پر ایئر لفٹ کر کے ایمس بھوپال منتقل کیا گیا ہے۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے مجرمانہ غفلت کے الزام میں اسسٹنٹ ایکسائز کمشنر کیرتی دوبے، ضلع ایکسائز افسر دلیپ کھنڈاتے، بندا کی ایکسائز سب انسپکٹر روشنی اوریتے، بندا تھانہ انچارج راجیندر کشواہا اور چوکی انچارج اے ایس آئی پورن سنگھ سمیت 5 افسران کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے، جبکہ ڈویژنل فلائنگ اسکواڈ کے انچارج نیرج شریواستو کو گوالیار ہیڈکوارٹر اٹیچ کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے غیر قانونی شراب کی تیاری، سپلائی اور فروخت میں ملوث 30 افراد کے خلاف نامزد مقدمات درج کیے ہیں، جن میں سے بندا تھانے میں 20 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے 10 کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ونائک تھانے میں بھی 10 ملزمان نامزد کیے گئے ہیں۔ ضلع کلکٹر پرتیبھا پال اور ایس پی انوراگ سجانیہ نے متاثرہ دیہات نوروزہ، بمہورا بیڑا اور گھوگھرا خورد کا دورہ کر کے لواحقین سے ملاقات کی اور بتایا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں میتھائل الکحل کے مہلک اثرات سامنے آئے ہیں، جس سے آدھے گھنٹے کے اندر جسم ٹھنڈا پڑنے اور موت واقع ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس غیر قانونی شراب کے تار پڑوسی ریاست اتر پردیش کے للت پور سے جڑنے کا انکشاف ہوا ہے جس پر بین الریاستی نیٹ ورک کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے تحت علاقے کی 7 شراب کی دکانوں بریٹھی، بندا، شاہ گڑھ، مگرودھا، ونائکا، دلپت پور اور برایٹھا کو سر بمہر کر کے نمونے لیب روانہ کر دیے گئے ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے دبئی روانہ ہونے سے قبل واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عوام کی جانوں سے کھیلنے والے کسی بھی قصوروار کو بخشا نہیں جائے گا اور غیر قانونی شراب کے مافیا نیٹ ورک کے خلاف بلاتفریق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔