ساگر، 6 ستمبر: مدھیہ پردیش اسمبلی میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے اتوار کے روز ساگر ضلع کے بنڈا علاقے کا دورہ کر کے زہریلی شراب پینے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور اپنی جانب سے فی کس 50-50 ہزار روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے ساگر میڈیکل کالج اور بنڈا اسپتال پہنچ کر زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی اور ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد انہوں نے بنڈا تحصیل کے موضع بمورا کا دورہ کیا جہاں زہریلی شراب سے 5 افراد ہلاک ہوئے تھے، اور غمزدہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ جب محکمہ داخلہ خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے تو انتظامیہ کی ناک کے نیچے غیر قانونی اور زہریلی شراب کا کاروبار کس کی سرپرستی میں پھل پھول رہا ہے۔ انہوں نے واقعے کی فوری اعلیٰ سطحی شفاف تحقیقات کا تقاضا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام متوفیان کے لواحقین کو 25-25 لاکھ روپے کا معاوضہ، خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری اور تمام متاثرین کے علاج کے مکمل اخراجات برداشت کرے، نیز زہریلی شراب کے نیٹ ورک اور انہیں تحفظ دینے والے افسران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔









