نئی دہلی26جولائی: کانگریس کے جنرل سکریٹری برائے مواصلات جے رام رمیش نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کی اضافی ذمہ داری سونپے جانے پر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزارتِ تعلیم کل وقتی توجہ اور مکمل وابستگی کا تقاضا کرتی ہے، لیکن حکومت نے یہ اہم ذمہ داری ایسے وزیر کو سونپی ہے جو پہلے ہی کئی اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پرہلاد جوشی پہلے ہی نئی و قابلِ تجدید توانائی کے وزیر ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت بھی ان کے پاس ہے۔ ایسے میں انہیں وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج دینا حکومت کے رویے پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ ’ایک شخص، دو چہروں والی حکومت‘ ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی اصل نیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے سابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، جو حالیہ تنازعات کے بعد تنقید کی زد میں رہے، کے دفاع میں کھل کر سیاسی محاذ سنبھال لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تازہ پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں امتحانی پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کی تحریک، احتجاج اور طلبہ پر پولیس کارروائی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت نہ تو تعلیمی نظام سے متعلق پیدا ہونے والے بحران پر سنجیدہ خود احتسابی کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر اور ٹھوس مداخلت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیح طلبہ کے مسائل کا حل نہیں بلکہ سیاسی غلبہ قائم رکھنا ہے۔ دوسری جانب وزارتِ تعلیم کا چارج سنبھالنے کے بعد پرہلاد جوشی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی ہے اور وہ اسے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ نبھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کرناٹک سے دیر رات دہلی پہنچے اور اتوار کی صبح وزارتِ تعلیم کا باضابطہ چارج سنبھالا۔









