نئی دہلی 5اکتوبر: ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر کانگریس نے ایک بار پھر مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کے قومی ترجمان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی نے ملک کی معیشت کو برباد کر دیا ہے۔ آج ملک کا ہر شہری پریشان ہے، خواہ وہ نوجوان ہو، کسان ہو یا چھوٹا کاروباری ہو۔ روزانہ قرض کے بوجھ تلے کسان اور نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ آج ملک میں ایسی صورتحال اس لیے بنی ہوئی ہے کیونکہ بی جے پی حکومت صرف ’کرونی کیپیٹلزم‘ میں یقین رکھتی ہے۔ آج ملک میں لاکھوں آسامیاں خالی پڑی ہیں، لیکن ان پر بھرتیاں نہیں کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ویکنسی نکلتی بھی ہے تو اس میں پیپر لیک ہو جاتا ہے اور حکومت کے چٹے بٹے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘‘
پریس کانفرنس کے دوران شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’1991 میں جب کانگریس کی حکومت بنی اس سے قبل ملک کی معیشت انتہائی بحران میں تھی۔ ملک کا سونا باہر گروی تھا۔ ہماری حکومت میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایف آئی آئی (فارن انسٹی ٹیوشنل انویسٹر) کو ہندوستانی بازار میں آنے کا راستہ دیا۔ اس سے ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ آنے لگا اور معیشت کو مضبوطی ملی۔ لیکن آج بی جے پی حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں۔ اس بارے میں نریندر مودی کو جواب دینا چاہیے۔‘‘شکتی سنگھ گوہل نے مزید کہا کہ ’’2004 میں جب ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے اور سونیا گاندھی یو پی اے کی چیئرپرسن بنیں تب انہوں نے متوسط طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا۔









