نئی دہلی 5اکتوبر: آج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سماعت کی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے کوئی فیصلہ تو نہیں سنایا، لیکن کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جس نے اپوزیشن کو آواز اٹھانے کا مزید موقع فراہم کر دیا ہے۔ دراصل سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ فارم-6 میں کسی بھی ترمیم کی منظوری اس کی طرف سے نہیں دی گئی ہے۔ عدالت کے اس بیان سامنے رکھ کر کانگریس نے گیانیش کمار کو ’فراڈ‘ قرار دے دیا ہے۔کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’گیانیش کمار ایک نمبر کا فراڈ ہے۔ 26 ستمبر کو گیانیش کمار نے ایک پریس نوٹ جاری کیا، جس میں کہا کہ فارم-6 میں تبدیلی سپریم کورٹ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ لیکن اب سپریم کورٹ نے صاف کہا ہے کہ کسی بھی ترمیم شدہ فارم-6 کو ہم نے منظوری نہیں دی ہے۔‘‘ عدالت کے اس تبصرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی نے یہ بھی کہا کہ ’’گیانیش پورے ملک میں ووٹ چوری کو انجام دے رہا ہے اور اب پکڑے جانے پر ایسے فراڈ کر ملک کو گمراہ کر رہا ہے۔‘‘ کانگریس نے اس معاملہ میں گیانیش کمار کو فوراً گرفتار کر جیل میں ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کانگریس لگاتار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور گرفتاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گیانیش کمار کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاجی کرنے والوں کی تصویریں اور ویڈیوز پوسٹ کی جا رہی ہیں۔
اور مبینہ ووٹ چوری کے ثبوت بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔