نئی دہلی 5اکتوبر: خاتون صحافیوں شاہین اور نفیسہ کے ساتھ دہلی پولیس کی مبینہ زیادتی سرخیوں میں ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں شاہین اور نفیسہ سے ملاقات بھی کی تھی، جس کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اس ملاقات کی ویڈیو ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے، جس میں شاہین اور نفیسہ آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ اپنے اوپر دہلی پولیس کے مظالم کی داستان سنا رہی ہیں۔ خاص طور سے نفیسہ پولیس بربریت کا ذکر کرتے ہوئے کئی بار رو پڑیں۔
شاہین اور نفیسہ سے ہوئی ملاقات کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’دہلی میں اس وقت جو ہو رہا ہے، اس کا ایک ہی پیٹر ہے۔ جو عورت سوال پوچھے، اسے خاموش کراؤ۔ جنتر منتر پر سینکڑوں لوگ حراست میں لیے گئے۔ خاتون مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ خاتون صحافیوں کے کیمرے چھینے گئے، انھیں گھسیٹا گیا۔
ایک صحافی کی شکایت پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’کچھ ہفتوں قبل شاہین اور نفیسہ نے ساکیت تھانہ کے اندر اپنے ساتھ ہوئے تشدد اور بدسلوکی سے متعلق داستان سنائی ہے۔ سوچیے، ظلم تھانے کے اندر ہوا… وہ جگہ جہاں خواتین شکایت لے کر جاتی ہیں۔‘‘ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ ’’جن پر خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، وہی آج ان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ اور دہلی پولیس کس کے ماتحت ہے، یہ پورا ملک جانتا ہے۔‘

‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’ساکیت تھانے کا پورا سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر لایا جائے۔ قصوروار پولیس اہلکاروں پر فوراً کارروائی ہو۔ شاہین، نفیسہ اور جن کے ساتھ بھی دہلی پولیس نے تشدد و بدتمیزی کی ہے، ان کو انصاف ملے۔‘‘ آخر میں وہ تلخ انداز اختیار کرتے سوال کرتے ہیں کہ ’’امت شاہ جی… آپ اور آپ کی پولیس خواتین سے ڈرتی کیوں ہے؟‘‘