نئی دہلی8مئی: سپریم کورٹ نے سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا اور دیگر کے خلاف 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کی سماعت کے دوران گواہوں کی پیشی میں تاخیر اور انہیں دھمکائے جانے کی شکایتوں پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت سے اس سلسلے میں جواب طلب کرتے ہوئے ماتحت عدالت کو مقدمے کی سماعت تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گواہوں کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ گزشتہ تقریباً دو ماہ کے دوران کسی گواہ سے جرح نہیں ہوئی۔ بنچ نے کہا کہ ماتحت عدالت کے جج گواہوں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے قانون کے مطابق سخت اقدامات کریں اور مقدمے کی سماعت کو وقت مقررہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک تازہ اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک مقدمے میں 131 گواہوں میں سے اب تک 44 کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں، جبکہ 72 گواہ اب بھی پیش ہونا باقی ہیں۔ دوسرے مقدمے میں 35 میں سے 26 گواہوں کی گواہی مکمل ہو چکی ہے اور 9 گواہوں سے اب بھی پوچھ گچھ باقی ہے۔ آشیش مشرا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ مارچ میں داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور اب تک صرف 44 گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے اتر پردیش حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ مارچ سے اب تک کیا کارروائی کی گئی۔ ریاستی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ہر سماعت میں تین یا چار گواہوں کو طلب کیا جاتا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک دن میں کم از کم سات یا آٹھ گواہوں کو طلب کیا جانا چاہیے تاکہ کچھ گواہوں کی عدم موجودگی کے باوجود کارروائی جاری رکھی جا سکے۔
متاثرہ کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت سے کہا کہ مقدمے کی سماعت جس انداز میں چل رہی ہے، اس میں سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں گواہوں کو دھمکانے کے الزام میں ایک الگ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کی جانچ اب بھی جاری ہے۔

سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ زیر التوا جانچ چار ہفتوں کے اندر مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں رپورٹ داخل کی جائے۔ مقدمے کی اگلی سماعت جولائی میں ہوگی۔