نئی دہلی 24جولائی:دہلی کی تاریخی جامع مسجد کے سابق شاہی امام سید احمد بخاری جمعہ کو تقریباً 19 سال پرانے انتخابی ضابطۂ اخلاق خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں مظفرنگر کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت نے ان کے خلاف جاری وارنٹ واپس لیتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ مقدمے کی اگلی سماعت 23 اگست مقرر کی گئی ہے۔ یہ مقدمہ 2007 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ضلع مظفرنگر کے قصبہ کھتولی میں منعقد ہونے والی ایک انتخابی ریلی سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس وقت سید احمد بخاری یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے امیدوار صابر علی کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے لیے کھتولی پہنچے تھے۔ الزام ہے کہ ان کا ہیلی کاپٹر انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر جلسہ گاہ کے قریب اتارا گیا تھا، جسے انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس معاملے میں کھتولی تھانے میں سید احمد بخاری، یو ڈی ایف امیدوار صابر علی اور جماعت کے ضلعی انتخابی انچارج محمد انعام قریشی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کے اترنے کے لیے ایک مخصوص مقام طے کیا گیا تھا، تاہم اسے دوسرے مقام پر اتارا گیا، جس پر انتخابی حکام نے کارروائی کی سفارش کی تھی۔