بھوپال 24جولائی: وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اپنی شاندار ثقافت اور “وسودھیو کٹمبکم” (پوری دنیا ایک کنبہ ہے) کے راستے پر آگے بڑھتے ہوئے عالمی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ ہماری ثقافت میں سب کی بھلائی اور انسانیت سے محبت کی بات کہی گئی ہے۔ وزیر اعظم مسٹر مودی نے نوجوانوں کے مفاد میں ان کی تعلیم اور روزگار سے جڑے معاملات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے چاروں بڑے شہروں— بھوپال، جبل پور، اندور اور گوالیار میں اسی طرح کے فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اگلے سال پنا میڈیکل کالج کا افتتاح کیا جائے گا۔ نیٹ (NEET) کے امیدواروں کو ڈاکٹر بننے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو پنا میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے سماجی تحفظ پینشن اسکیم کے تحت 35 لاکھ سے زائد مستفیدین کو تقریباً 210 کروڑ روپے کی رقم سنگل کلک کے ذریعے منتقل کی۔ انہوں نے علامت کے طور پر مختلف شعبوں کی جانب سے چلائی جانے والی اسکیموں کے مستفیدین اور خود کفیل گرام پنچایتوں کو تعریفی اسناد پیش کیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کو زراعت کی فلاح و بہبود کے سال کی مناسبت سے حل (ہل) پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ بندھیل کھنڈ کی سرزمین بہترین ہے۔ یہ مہاراج چھترسال، ویر آلہا-اودھل کی زمین ہے۔ خوش قسمت انسان ہی ایسی بابرکت زمین پر آ سکتا ہے۔ یہاں پنا میں زمین کے نیچے سے ہیرا نکلتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ پانی کی کمی ہوتی گئی۔ لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی، جسے ہماری حکومت نے روکا۔ اب ہماری حکومت نے بندھیل کھنڈ کی خوشحالی کے لیے بھارت رتن قابل احترام اٹل بہاری واجپئی کے عزم کے مطابق بین ریاستی کین-بیتوا ندی جوڑو منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے 1 لاکھ کروڑ کے اس منصوبے کے لیے 90 فیصد رقم دینے کی منظوری دی ہے۔ ندی جوڑو منصوبہ کسانوں کے لیے خوشحالی لائے گا۔ ریاستی حکومت نے طے کیا ہے کہ ایسے منصوبوں میں اگر کسی کی زمین، مکان یا دکان آتی ہے تو اسے مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔ اس منصوبے سے بندھیل کھنڈ کا منظر نامہ بدلنے والا ہے۔ کسان اپنی زمین بیچنے کا خیال دل میں نہ لائیں۔
کھیتی باڑی کے معاملے میں یہ علاقہ اب پنجاب اور ہریانہ کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
**پنا علاقے کی سیاحت کو فروغ دے گا نیا انوکھا گلاس فلور اور ویو پوائنٹ**
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے پنا کے برہسپتی کنڈ پر 8 کروڑ کی لاگت سے خوبصورتی کے کاموں کے تحت تعمیر شدہ گلاس فلور اور ویو پوائنٹ سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا۔ پنا میں بنایا گیا یہ شیشے کے فرش والا ویو پوائنٹ یہاں کی سیاحت کو فروغ دے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اسے دیکھنے کے لیے ملک و بیرون ملک سے لوگ آئیں گے۔ ہندوستان کے سیاحوں کو بھی دوسرے ملکوں میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں کے قدرتی آبشار سیاحت میں عالمی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
**دو ساندیپنی اسکولوں کا تحفہ**
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کل 184.83 کروڑ روپے کی لاگت کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھا۔ ان کاموں میں گنور اور پوائی کے 74 کروڑ روپے کی لاگت کے 2 ساندیپنی اسکول شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ساندیپنی اسکول ملک کے بہترین اسکول ہیں۔ ریاست میں شاندار ساندیپنی اسکول بنائے گئے ہیں۔ یہ اسکول بھگوان شری کرشنا اور سداما کی دوستی کی علامت ہیں۔ ساندیپنی اسکولوں میں بچوں کو معیار اور اخلاقی قدروں کے ساتھ تعلیم دی جا رہی ہے۔
**نوجوانوں کو روزگار**
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے محکمہ پولیس میں تقریباً 10 ہزار نئی اسامیوں کی منظوری دی ہے۔ گزشتہ سال 8 ہزار اسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں۔ ریاست میں کل ایک لاکھ سے زائد سرکاری عہدوں پر نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع ملے ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنا چاہتی ہے۔ کسان مویشی پالنے اور دودھ کی پیداوار کے ذریعہ اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں۔ ریاست میں ابھی 12 فیصد دودھ کی پیداوار ہے، جسے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ کسان کھیتی باڑی سے فائدہ اٹھائیں، دودھ کی پیداوار سے آمدنی بڑھائیں اور مچھی پالن سے بھی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت سیاحت کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ بندھیل کھنڈ میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ پنا میں ہزاروں کروڑ کی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ساگر ڈویژن میں ہی بینا میں ریفائنری کی توسیع کا کام بھی ہوا ہے۔ کھیت سے لے کر فیکٹری اور پھر برآمدات تک ہماری حکومت ہر شعبے میں کام کر رہی ہے۔









