کولمبو، 22 اگست (یو این آئی) ہندوستان کے پاس برتری، مومنٹم اور ٹیم کی گہرائی ہے، جبکہ سری لنکا مشکلات سے دوچار ہے۔ سنگھلیز اسپورٹس کلب میں اتوار سے شروع ہونے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل میزبان ٹیم کے لیے کلین سویپ سے بچنا بڑا چیلنج ہے، جبکہ ہندوستان 165 رنز کی پہلی ٹیسٹ فتح کے بعد سیریز اپنے نام کرنا چاہتا ہے۔
پہلے ٹیسٹ میں جیت کا فرق یکطرفہ نظر آیا، لیکن سری لنکا نے خاص طور پر دوسری اننگز میں ہندوستان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرایا تھا۔ کولمبو کی پچ پر نئی گیند سے تیز گیندبازوں کو ابتدائی مدد ملنے کی توقع ہے، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ پچ خراب ہونے پر اسپنرز کا کردار اہم ہوسکتا ہے۔ ایسے میں پہلے دو دن بلے بازی کے لیے نسبتاً بہتر جبکہ تیسرے اور چوتھے دن تکنیک اور صبر کا امتحان ہوسکتا ہے۔
ہندوستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی برتری کو کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پہلے ٹیسٹ میں کے ایل راہل، دیودت پڈیکل، رشبھ پنت اور دھرو جوریل نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ رویندر جڈیجا نے آل راؤنڈ توازن فراہم کیا۔ یشسوی جیسوال اور شبھمن گل بڑی اننگز نہیں کھیل سکے، لیکن ٹیم کی گہرائی نے اس کی کمی پوری کردی۔
کُلدیپ یادو کے انتخاب پر نظر رہے گی۔ پہلے ٹیسٹ میں ان کا کردار محدود رہا کیونکہ مانَو سُتھار اور جڈیجا نے اسپن کی زیادہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ اس کے باوجود پچ کے خراب ہونے کے ساتھ کُل دیپ زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ تیز گیندبازی میں بھی ہندوستان کے پاس موجودہ حملے کو برقرار رکھنے کی مضبوط وجہ ہے، کیونکہ پرسدھ کرشنا اور محمد سراج نے پہلے ٹیسٹ میں مؤثر کارکردگی دکھائی تھی۔
دوسری جانب سری لنکا کو انجری اور عدم دستیابی کے باعث تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ پاتھم نسانکا اور کسل مینڈس کے بعد دنیش چندی مل بھی دوسرے ٹیسٹ سے باہر ہیں۔ کامل مشارا، پسندو سوریابندارا اور ساہن ارچچیگے کی شمولیت سے میزبان ٹیم کی نوجوان بیٹنگ لائن کو موقع ملا ہے۔ سونال دنوشا نے پہلے ٹیسٹ میں عمدہ صبر کا مظاہرہ کیا تھا، جبکہ نیروشن ڈکویلا کے ساتھ ان کی شراکت نے بھی امید جگائی۔
سری لنکا کی گیندبازی میں اسیتھا فرنانڈو اور لہرو کمارا نئی گیند سے ہندوستانی بلے بازوں کو پریشان کرسکتے ہیں، جبکہ پچ سے اسپن ملنے پر پرابھات جے سوریا اہم ہتھیار ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم میزبان ٹیم کے گیندبازوں کو کامیابی کے لیے بلے بازوں سے مضبوط اسکور کی ضرورت ہوگی۔
ٹاس بھی اہم ہوگا۔ اگر سری لنکا پہلے بلے بازی کرتے ہوئے صرف 200 کے آس پاس رنز بناتا ہے تو ہندوستان کو پچ کے خراب ہونے سے پہلے برتری بنانے کا موقع مل جائے گا، جبکہ 300 سے زائد کا اسکور میزبان ٹیم کو بہتر پوزیشن دے سکتا ہے۔ ہندوستان پہلے بلے بازی کی صورت میں ابتدائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑا اسکور بنانے کی کوشش کرے گا۔
ہندوستان کو واضح برتری حاصل ہے، لیکن اسے ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی سے بچنا ہوگا۔ سری لنکا کے لیے یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ پہلے ٹیسٹ میں دکھائی گئی مزاحمت محض آخری مرحلے کی کوشش نہیں تھی۔ کولمبو کا دوسرا ٹیسٹ دونوں ٹیموں کے لیے مختلف نوعیت کا امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔