کولکاتا 14مئی: مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے سبھی سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں صبح کے وقت دعائیہ اجلاس کے دوران ’وندے ماترم‘ گیت گانا لازمی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم کی جانب سے جاری سرکاری حکم کے مطابق یہ بندوبست فوری اثر سے نافذ ہوگا اور ریاست کے سبھی طلبا کو اسکول شروع ہونے سے پہلے دعائیہ اجلاس میں قومی گیت گانا ہوگا۔ محکمہ نے تمام اسکولوں کے سربراہوں کو احکامات پر سختی سے عمل کرنے کو کہا ہے۔ 13 مئی کو جاری حکم میں محکمہ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ کلاسیں شروع ہونے سے پہلے صبح کے دعائیہ جلسے میں ’وندے ماترم‘ گیت کو گانا لازمی بنایا جائے، یعنی ریاست کے سبھی اسکولوں میں تمام طلبا قومی گیت گائیں۔ افسران کے مطابق اسکولوں کو اس پر عمل کرنے کا ویڈیو ریکارڈ بھی محفوظ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ عمل درآمد کا ثبوت فراہم کیا جا سکے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اسمبلی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے پیر سے ریاست بھر کے تمام اسکولوں میں ’وندے ماترم‘ کو دعائیہ گیت کے طور پر شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں آج نابنا جا کر اس بارے میں آگاہ کروں گا۔‘‘ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب مرکزی حکومت قومی علامتوں کے احترام سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ مرکز نیشنل آنر ایکٹ 1971 میں ترمیم کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت ’وندے ماترم‘ گانے میں رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم بنایا جا سکتا ہے۔ ایسے میں مغربی بنگال حکومت کے اس اقدام کو سیاسی اور ثقافتی دونوں سطحوں پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔